اتوار، 10 جولائی، 2022

دس 10 عادات مبارکہ

 *رسولﷺ کی "۱۰ عاداتِ مُبارکہ"، آپﷺ پوری حیات طیبہ بیمار نہ ہوئے۔*


“۰۱”۔ *"صبح جلدی اٹھنا"*


رسول اللہﷺ صبح بہت جلد اٹھ جایا کرتے تھے بلکہ ایسی کوئ روائت نہیں ملتی کہ آپﷺ کی تہجد بھی کبھی قضاء ہوئ ہو۔ 


☜ سورج نکلنے سے کچھ وقت قبل اور ایک گھنٹہ بعد تک کا وقت آکسیجن سے بھرپور وقت ہوتا ہے۔ 


☜ آج سائنسی تحقیق کی بنیاد پر بھی صحت کے اعتبار سے 24 گھنٹوں میں یہ بہترین وقت ہوتا ہے کہ جس میں آپکو زیادہ سے زیادہ آکسیجن لینے کا موقع ملتا ہے جو کہ آپکی صحتمند زندگی کیلئے ایک بہترین مفید عمل ہے۔


“۰۲”۔ *"آنکھوں کا مساج*


صبح نیند سے اٹھنے کے بعد رسول اللہﷺ آنکھوں کا مساج فرمایا کرتے تھے۔


☜ باڈی کا پورا نظام گیارہ سسٹم پر مشتمل ہوتا ہے۔


☜ نیند سے اٹھنے کے بعد یہ سسٹم بحال ہونے میں 11 سے 12 منٹ لیتا ہے ۔ 


☜ اگر آپ آنکھوں کا مساج کرتے ہیں تو یہ سسٹم 10 سے 15 سیکنڈ میں فوراً بحال ہو جاتا ہے۔


“۰۳”۔ *"بستر پر کچھ دیر بیٹھے رہنا"*


رسولﷺ بستر سے اٹھ کر کچھ دیر بیٹھے رہتے تھے اور معمول تھا کہ 3 دفعہ سورہ اخلاص پڑھتے تھے۔ کہ جس کو پڑھنے میں تقریباً 1 منٹ صرف ہوتا ہے۔ 


☜ آج میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ ہمارے دماغ میں ایک capillary ہے کہ جسکے ایک حصے سے دوسرے حصے کیلئے بلڈ کیلئے ایک پل بنتا ہے۔


☜ اس طرح اس پل کے ذریعے سے ہی ہمارے پورے دماغ کو بلڈ کی سپلائی بحال ہوتی ہے کہ جہاں سے ہمارے تمام تر اعصاب یعنی پورا جسم کو کنٹرول ہونا ہوتا ہے۔


☜ اگر کوئ شخص صبح بیدار ہونے پر اچانک آٹھ کر چل دے کہ جبکہ ابھی برین میں بلڈ کی سپلائی بحال نہیں ہوئ تو اس شخص کو یہاں برین ہیمریج ہو سکتا ہے یا وہ برین کے کئ دوسرے پیچیدہ مسائل کا شکار ہو سکتا ہے کہ جس میں اچانک جسم کے کئی حصوں کا مفلوج ہونا (فالج) بھی شامل ہے۔


☜ جبکہ اگر وہ صرف ایک منٹ بیٹھا رہے کہ اسکے دماغ میں بلڈ کی سپلائی بحال ہو سکے تو بہت سے پیچیدہ مسائل سے بچ سکتا ہے۔ 


☜ یہ باقاعدہ ایک سائنس ہے اور اس ایک حدیثِ مبارکہ کے پیچھے بہت سے پروفیسر ڈاکٹرز کی ریسرچ شامل ہے کہ جس میں غیر مسلم ریسرچرز نے بھی اتفاق کیا ہے کہ ہمیں محمدﷺ کی اس سنت کے مطابق صبع اٹھنے کے بعد بیڈ پر کچھ دیر بیٹھے رہنا چاہیے۔ 


☜ اسکا فائدہ یہ ہے کہ دماغ پوری طرح سے ایکٹو ہو کر ہمارے جسم کی بھرپور راہنمائ کے قابل ہو جاتا۔


☜ یہ سنت مبارکہ جہاں بہت بڑا آجر و ثواب ہے وہاں صحت کا بہت بڑا راز بھی ہے۔


“۴” ۔ *"قیلولہ کرنا"*


آپﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ دوپہر کے کھانے کے بعد ایک گھڑی کیلئے (20 سے 25 منٹ) آپﷺ لیٹ جایا کرتے تھے۔


☜ اسکا فائدہ یہ ہے کہ تقریبا 68% افراد میں جب وہ لنچ کرتے ہیں تو انکا معدہ تھوڑی مقدار میں الکوحل پیدا کرتا ہے۔


  ☜ ایسے میں اگر انسان چل پھر رہا ہو تو وہ چکرا کر گر سکتا ہے، یا اس پر خمار کی سی کیفیت طاری ہو سکتی ہے۔


 ☜ یہی سبب ہے کہ آپ ہمیشہ دوپہر کے کھانے کے بعد آپنے آپ کو تھوڑا بوجھل سا محسوس کرتے ہیں۔


 ☜ اگر ہم کچھ دیر لیٹ جائیں تو الکوحل سے پیدا ہونے والے خمار کا ذہن پر زیادہ دباو نہیں آئے گا اور وہ باڈی فنگشنز کیلئے زیادہ فعال رہے گا اور ہم کسی بھی طرح کے حادثے سے بچ سکیں گے۔


☜ اسکے علاوہ بھی اس سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بہت سے صحت کے مسائل کا خدشہ رہتا ہے۔


☜ چونکہ یہ بات آج تحقیقات سے ثابت شدہ ہے اسلئے دنیا بھر کے ممالک میں بیشر 1 سے 2 یا 3 بجے تک دوپہر کا وقفہ کیا جاتا ہے تاکہ لوگ لنچ کے بعد کچھ قیلولہ کر سکیں۔


☜ آج پورا یورپ رسول اللہﷺ کی سنت کو عملاً اپنائے ہوئے ہے اور پورے یورپ میں دوپہر 1 سے 3 بجے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔ انہوں نے سنتِ رسولﷺ پر ریسرچ کی، اپنایا اور ہم سے کہیں بہتر صحت کا معیار رکھتے ہیں۔


“۵” ۔ *"کھانے سے پہلے پھل نوش فرمانا"*


رسول اللہﷺ ہمیشہ کھانا کھانے سے پہلے فروٹ نوش فرمایا کرتے تھے آپﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپ کھانے کے بعد پھل نوش نہ فرما تے تھے۔


☜ مختلف پھلوں میں 90 سے 99 % تک پانی کی مقدار ہوتی ہے آپﷺ نے چونکہ کھانا کھانے کے بعد پانی پینے سے منع فرمایا ہے جبکہ کھانے سے قبل پانی پینے کی ترغیب دلائی ہے۔


 ☜ اس لئے مختلف پھل بھی چونکہ پانی کی بہت زیادہ مقدار رکھتے ہیں اس لئے انکو کھانے سے پہلے کھانے سے جسم اور خاص طور پر معدہ اور آنتوں کو توانائی ملتی ہے۔


☜ کیونکہ کھانے کو ہضم کرنے میں معدہ اور آنتوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور یہ عمل انکی کارکردگی بڑھانے میں انکے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ اور یہ بات بھی سائنسی مشاہدات سے ثابت شدہ ہے۔ فروٹ میں موجود غزائیت سے خالی معدہ کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ 


“۶” ۔ *"غذا کے بعد پانی نہ پینا"*


رسول اللہﷺ کبھی بھی کھانے کے بعد پانی نہ پیتے تھے۔


☜ آج علم و تحقیق سے جو باتیں سامنے آئ ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے اسقدر نقصانات ہیں کہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔ 


☜ جب ہم کھانے کے بعد پانی پیتے ہیں تو کھانے میں جسقدر بھی فیٹس ہوتے ہیں وہ کھانے سے نکل کر معدے کے اوپر والے حصے کی طرف آجاتے ہیں۔


☜ باقی کھانا ہاضمے کے دوسرے مرحلے کیلے چھوٹی آنت میں چلا جاتا ہے اور اس طرح معدے میں رہ جانے والا فیٹ اور پروٹین معدے کے اند انتہائ نقصان دہ گیسسز پیدا کرتے ہیں جبکہ ان سب کو کھانے کیساتھ مکس ہو کر نظام انہظام کے اگلے مرحلے میں جانا تھا۔ ہم نے پانی پی لیا یا فروٹ کھا لیا تو یہ ہماری صحت کی بربادی کیلئے معدے ہی میں رہ گئے۔


☜ ایک حدیث رسولﷺ کا مفہوم ہے کہ اگر کھانا کھا لینے کے بعد پانی کے حاجت ہو تو محض چند ایک گھونٹ لے لو اور اسکے بعد روٹی کا ایک لقمہ کھا لو۔


☜ جاپانی ریسرچ ہے کہ کھانے کے بعد پانی پینے سے جو فیٹ اوپر آ رہے تھے اور آپ نے جو بعد میں لقمہ کھا لیا تو فیٹس کے اوپر آنے کا سلسلہ نہ صرف وہیں رک جاتا ہے بلکہ وہ دوبارہ غذا کا حصہ بن جاتے ہیں۔


☜ اسلئے کھانا کھانے کے بعد پانی ہرگز نہیں پینا چاہیے کہ چو پیٹ میں نہ صرف گیسسز، تیزابیت، بدہضمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ بہت سے دل کے امراض کا تعلق بھی اسی سنتِ مبارکہ پر عمل نہ کرنے کے سبب سے ہی ہے۔ 


“۷” ۔ *"وضو"*


☜ ہم دن میں پانچ فرض نمازوں کیلے کم از کم پانچ بار وضو کرتے ہیں کیونکہ وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور منہ، ناک ہاتھ، بازو، سر اور پاوں دھوئے بغیر وضو نہیں ہوتا۔ یعنی دن میں پانچ بار ہم جسم کے ان تمام اعضاء کو دھوتے ہیں۔  


☜ وضو میں ہم جسم کے تمام ظاہری اعضاء دھوتے ہیں کہ جن پر مٹی اور کاربن لگ جاتی ہے۔ 


☜ آج سائنسی مشاہدات یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جسم کے جن اعضاء پر مٹی یا کاربن لگ جاتی ہے تو اگر ان کو صاف نہ کیا جائے اور وہ جسم کے اس حصے پر زیادہ دیر لگے رہیں تو ان اعضاء اور دماغ کا کنکشن کمزور ہو جاتا ہے۔ یعنی جسم کا اعصابی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔


☜ چونکہ وہ مسلسل دماغ کو یہ پیغام بھیج رہے ہوتے ہیں کہ جسم پر کوئ چیز آ گئ ہے اور اسکی صاف کا اہتمام کیا جائے۔


☜ اگر ایک شخص صبح منہ دھوتا ہے اور اسکے بعد شام میں آکر دھوتا ہے تو اسکے اعضا اور دماغ کا تعلق کمزور پڑ جاتا ہے کہ جس سے بعد میں وہ بہت سے اعصابی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔


 ☜ اسلام کم از کم دن میں پانچ بار آپکے اعضاء کی صفائی کا بند بسٹ کرتا ہے اور جمعہ کے روز ناخن، زیر ناف اور بغلوں کے غیر ضروری بال کاٹنے سمیت مکمل صفائی کا اہتمام کرتا ہے اسی لئے جمعہ کا غسل ہر مسلمان پر واجب ہے۔ 


☜ رسول اللہﷺ نے نہ صرف ایسا کرنے کا حکم فرمایا ہے بلکہ یہ سب آپﷺ کی سنت مبارکہ کا حصہ بھی ہے۔   


 


“۸” *"جلد سونا"*


رسولﷺ کی ایک اور عادتِ مبارکہ یہ بھی تھی کہ آپﷺ رات جلد سو جایا کرتے تھے۔ عموما آپﷺ نماز عشاء کے فورا بعد سو جاتے تھے۔ یعنی رات جلد سونا اور صبح جلد اٹھنا آپﷺ کے معمولات میں شامل تھا۔


☜ ہماری بایولاجیکل واچ جو کہ ہمارے پورے جسم کے نظام کو منظم کرتی ہے جب یہ باہر اندھیرا دیکھتی ہے تو یہ آپکے جسم کو سونے کا سگنل دے دیتی ہے جسم کو تیاری کیلئے یہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا ٹائم دیتی ہے کہ اس وقت تک آپکو لازمی سونا ہے۔ 


☜ نوٹ کیجئے کہ نماز مغرب اور نماز عشاء میں بھی تقریبا اتنا ہی دورانیہ ہوتا ہے ا


☜ اسکا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپکے جسم کے اندر بایولاجیکل واچ کے تحت ایک ڈاکٹر جاگ جاتا ہے جو آپکے پورے جسم کی مینٹیننس کرتا ہے۔ اگر کہیں زخم آگیا ہے وہ اسکو ریپئر کر گا۔ اگر جگر یا کسی اور اعضاء میں کچھ مشکل ہے تو اس پر کام کرے گا۔


☜ بلکہ سونے کے بعد سب سے پہلے جگر پر ہی کام ہوتا ہے اور جو جگر کے مریض ہیں انکے لئے یہ رائے بھی ہے جہاں وہ اپنا علاج کر رہیں ہیں وہ اپنی جگہ لیکن اپنے نیند کے نظام کو بہتر کر کے اپنے جسم کے ڈاکٹر کو علاج کا موقع دیجئے اور پھر اسکے ثمرات دیکھیے۔ 


☜ رات 10 بجے سے بارہ بجے تک جگر اور اسکے ارد گرد کے اعضاء کی مینٹیننس ہوتی ہے اور اسکے بعد درجہ بدرجہ پورے جسم کی مینٹیننس ہوتی ہے اور یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔


☜ اللہ ربالعزت نے آپکے جسم میں ایک آٹومیٹک نظام رکھا ہے اور یہ نظام تب کام کرتا ہے کہ جب آپ جلدی سونے کی عادت اپناتے ہیں۔ 


☜ عہد جہالت میں عربوں میں ایک رواج تھا کہ رات کے کھانے کے بعد انکے ہاں شعر و شاعری اور دیو مالائ کہانیوں کی محفلیں ہوتی تھیں جو رات گئے دو بجے تک چلتی رہتی تھیں اور اس ماحول میں رسولﷺ کا رات جلدی سونا بھی انکے نزدیک ایک قابل اعتراض عمل تھا۔


☜ یہ تو عہد جہالت تھا لیکن آج ماڈرن ایج کا دعوہ کرنے والے ہم مسلمانوں کے ہاں بھی دیر تک جاگنے کو نہ صرف قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا بلکہ کچھ حد تک تو قابل فخر بھی جانا جاتا ہے۔ عہد جہالت کی محفلوں کی جگہ آج ماڈرن انٹر نیٹ اور سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔


 ☜ لیکن جلدی سونا رسول اللہﷺ کے معمولات میں تھا کیونکہ جسم کے اندرونی ڈاکٹر کی افادیت سے واقف تھے اور یہی وجہ ہے کہ پوری حیاتِ مبارکہ میں رسول اللہﷺ ایک لمحے کیلئے بھی بیمار نہیں ہوئے۔ 


“۹”۔ *"مسواک کرنا"*


رسول اللہﷺ مسواک کو بہت پسند فرما تے تھے اور خصوصا دن میں پانچ دفعہ ہر نماز میں وضو کیساتھ تو ضرور اسکا اہتمام فرما تے تھے۔


☜ اسکے علاوہ بھی جب گھر تشریف لاتے، کسی محفل میں حاضری سے پہلے غرض موقع بے موقع مسواک کا اہتمام کرتے اور مسواک کو بہت محبوب رکھتےﷺ ۔


☜ ہوتا یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو دانتوں کے درمیان کھانے کے کچھ نہ کچھ ذرات ضرور رہ جاتے ہیں اور کھانے کے ایک گھنٹے بعد ان میں بیکٹیریا پیدا ہو جاتے ہیں۔ 


☜ محسوس کیجئے گا کہ دانتوں میں رہ جانے والے ذرات دو گھنٹوں پر نرم ہو جاتے ہیں اور اسکی وجہ یہ بیکٹیریا ہی ہیں۔


☜ اس لئے ہمیں کہا گیا کہ کھانے سے پہلے، بعد، سونے سے پہلے، بعد مسواک کا اہتمام کیا جائے۔ ورنہ یہ آپکے ہارٹ اٹیک کا بھی سبب بن سکتی ہے۔


 ☜ آج امریکہ اور مغربی ممالک میں صبح اٹھتے بغیر دانت منہ صاف کیے کھانے پینے کا رواج عام ہے جو ان میں طرح طرح کی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔


 ☜ آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی نے ہارٹ اٹیک کے پانچ سو مریضوں پر ریسرچ کی انہوں نے جہاں اور بہت سی وجوہات بیان کیں وہاں ایک کامن وجہ یہ بھی سامنے آئ کہ یہ لوگ ٹوتھ برش کرنے کے عادی نہ تھے جسکے سبب انکے دانتوں میں جما میل پیٹ میں جا کر اسقدر ملٹی پلائ ہوا کہ وہ ہارٹ کی آرٹریز کو بلاک کرنے کا سبب بنا۔


 ☜ انکو ہارٹ اٹیک کا اصل سبب انکے دانتوں کا میل تھا جبکہ ہمیں رسول اللہﷺ مسواک کی اس حد تک تلقین فرمائ کہ ایک موقع پر فرمایا کہ اگر امت پر بھاری نہ ہوتا تو میں امت پر مسواک کو فرض قرار دے دیتا۔


☜ آج کی ماڈرن سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ جن لوگوں کو ٹوتھ برش زیادہ کرنے کی عادت ہوتی ہے انکو غصہ کم آتا ہے اور وہ اکثر ٹھنڈے مزاج، پرسکون رہتے ہیں۔


☜ جس شخص کو زیادہ غصہ آتا ہو، بلڈ پریشر اکثر ہائی رہتا ہو، طبیعت میں بےچینی، تو وہ زیادہ سے زیادہ مسواک کیا کرے دو تین ماہ ہی میں وہ اسکے حیران کن معجزاتی اثرات پائے گا۔


“۱۰”۔ *"ہفتے میں دو روزے"*


رسول اللہﷺ کے معمولات میں پیر اور جمعرات کا روزہ بھی شامل تھا اور آپﷺ نے ان روزوں کو رکھنے کی ترغیب بھی دلائ۔ یعنی کہ ہفتے میں دو روزے۔ 


☜ رسول اللہﷺ کا قولِ مبارک ہے کہ مسلمان ایک آنت میں کھانا کھاتا ہے جبکہ کافر تین آنت میں۔ اور ہمیں نصیحت فرمائ کہ جب خوب بھوک لگے تو کھانا کھاو اور ابھی بھوک باقی ہو تو چھوڑ دو۔ 


قولِ۔ *یہ عمل آج جدید میڈیکل کی زبان میں۔ "آٹو فیجیا" (Autophagia) کہلاتا ہے۔*


☜ یہ انسانی جسم کو صحتمند رکھے کا بہت عظیم راز ہے۔ 


☜ ہوتا یہ ہے کہ جب ہم معمول کے مطابق اپنی ضرورت سے زیادہ کھانا کھاتے رہتے ہیں تو جسم میں ایکسٹرا پروٹین، فیٹس اکٹھے ہو جاتے ہیں جو کہ جسم کی ضرورت سے زائد ہونے کے سبب حسم میں زہر کا کردار ادا کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔


☜ آج کی عام بیماریاں شوگر، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کا بنیادی سبب یہی ایکسٹرا فیٹس ہی بنتے ہیں۔


☜ جب آپکو بھوک لگتی ہے تو جسم کے "ہنگر جوسز" (hunger juices) یعنی جسم میں کھانا ہضم کرنے کا خود کار نظام پوری طرح سے تیار ہو جاتا ہے۔ 


☜ اگر ہم نے سو لقمے کھانے تھے مگر ستر پر ہاتھ روک لیا تو باقی تیس لقمے کہ جنکی جسم کو ضرورت تھی جسم وہ ضروت ان ایکسٹرا پروٹین اور فیٹس کو کھا کر پورا کرتا ہے۔


☜ جسم اپنے خودکار نظام کے تحت اکٹھے ہونے والے زہر کو ختم کرتا رہتا ہے اور آپ صحتمند رہتے ہیں۔


☜ اب جب تین روز کچھ کوتاہی ہو گئی اور آپ نے پیر کو روزہ رکھ لیا تو دن بھر کے طویل روزے کے باعث *آٹو فیجیا* کے عمل کو ایکٹو ہونے کا بھرپور موقع ملتا ہے اور تین روز کی کوتاہی کو وہ ریپئر کر دیتا ہے پھر دو روز کے معمولات اور جمعرات کا پھر روزہ۔ 


☜ جب یہ سنتِ رسولﷺ آپکے معمولات کا حصہ بن جاتی ہے تو بیماری پیدا کرنے والے سیل *آٹو فیجیا* کا عمل ہفتے میں دو بار دھرائے جانے کے باعث اکٹھے ہی نہیں ہو پاتے اور آپ سدا صحتمند رہتے ہیں۔


*آج ہم سائنسی تحقیقات پر بہت یقین رکھتے ہیں، کیا ہم اس انتظار میں ہیں کہ سائنس رسول اللہﷺ کی سنتِ مبارکہ کو پروف کرے تو ہم اللہ کے رسولﷺ سنتوں پر عمل کرنا شروع کریں گے۔* 


حقیقت یہ ہے کہ سائنس رسول اللہﷺ کی سنتوں سے بہت پیچھے ہے اور آپﷺ کی ساری حیاتِ طیبہ، سنتیں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور انہی میں ہمارے لئے دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور راحتیں ہیں۔  


*لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِىۡ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ*


(اے مسلمانو ! ) تمہارے لیے اللہ کے رسولﷺ (کی زندگی) میں ایک بہترین نمونہ ہے الأحزاب۔21"

قربانی۔۔۔۔۔لوفروں اور نشیئوں کا بھی خیال رکھیے

 *قربانی۔۔۔۔۔لوفروں اور نشیئوں کا بھی خیال رکھیے*    


👉  



👈 گوشت ان محلے دار اور لوگوں کو ضرور بھجوائیں جن کی اپنی قربانی نہیں ھے ۔ کیونکہ یہ رواج بن گیا ہے کہ رشتہ داروں کو گوشت ضرور بھیجا جاتا ہے چاہے ان کی اپنی دو قربانی موجود ہوں اور گوشت کے انبار لگے ہوں ۔


👈یاد رکھیں کہ غریبوں کے بچے بھی کلیجی اتنی ہی پسند کرتے ہیں جتنی آپکے بچے۔ اسلئے ، کلیجی کی قربانی بھی کریں۔ 


👈اس بار اپنے ملازموں کے ساتھ ساتھ ، علاقے کے نکموں ، نشئیوں ، چور اچکوں ، لوفروں ، بات نہ ماننے والوں اور آپ کی رقم دبانے والوں کو بھی گوشت بھجوائیں ۔

 وہ بھی انسان ہیں اگرچہ آپ کو پسند نہیں ۔


👈 بکرے ، بیل کے گوشت کے وہ حصے جو آپکو زیادہ پسند ہوں ، خود بے شک رکھیں مگر اللّٰہ کی راہ ضرورتمندوں کو بھی ضرور بھیجیں ۔ 


👈 گوشت جلدی بھیجیں ، کھانا کھا کر ، کوک پی کر ، آئس کریم ختم کرکے ، تو سب بانٹتے ہیں۔ آپ اس بار یہ کریں کہ جب تک آپ کا کھانا تیار ہو ، گوشت بانٹتے رہیں۔  


👈 یاد رکھیں ، جن کی اپنی قربانی نہیں ہوتی ، ان کی خواتین بھی آپ کی خواتین کی طرح دیگچے دھو کر ، آٹا گوندھ کر بیٹھی ہوتی ہیں اسلئے امیدوں کو پورا کرنے والے بنیں۔


👈 گوشت دیتے وقت ، پلیٹ میں دو ہڈیاں ، ایک لوتھڑا چربی ، دو ٹکڑے اوجڑی ، ایک ہڈی سر کی ، ایک ٹکڑا دم کا پلیٹ میں پھینکنے سے پرہیز کریں۔ قربانی پسندیدہ چیزوں کی ہوتی ہے۔ 


👈چانپ خالہ جی کو ، دستی ماموں صاحب کو ، اگلا چوڑا شاہ جی کے ہاں اور رانیں ، روسٹ والوں کے ہاں ! نہيں کرنا یہ کام اس بار ! ۔۔ ضرورت مندں کا بھی خیال رکھنا 


👈ڈر ہے کہ قربانی واپس منہ پہ نہ مار دی جائے اس بار اگر آپ قربانی کے اگلے روز سری پائے سے ناشتہ کررہے ہوں اور ہمسائے ، چائے میں پاپے ڈبو کر کھا رہے ہوں ۔ 


👈اگر قربانی کے تیسرے دن ، آپ کے غریب ہمسائے کے گھر گوشت دھوپ میں سوکھ رہا ہے تو آپ انشاءاللہ کامیاب ہیں۔


👈قربانی میں سب سے پہلا حق غریب رشتے دار اور غریب ہمسائے کا ہے۔ 


👈آج فریزرز میں جھاڑ پونچھ کی جارہی ہے مگر کوشش کریں کہ برف ہمسائیوں سے نہ مانگنی پڑے ۔۔۔۔۔۔۔ 


جس کے گھر بھی گوشت بھیجیں ، اتنی مقدار میں ضرور بھیجیں جسے وہ فوراً پکا سکیں۔

 یہ نہ ہو کہ آپ کم گوشت بھیجیں اور انہیں دوسرے حصے کا انتظار کرنا پڑے۔ 


👈اوجڑی گوشت میں ڈال کر نہ بانٹیں ویسے ہی سالم کسی کو دے دیں ۔  


زیادہ بناوٹی متقی بننے کے چکر میں اپنے گھر والوں کو ، بچوں کو ہرگز ہرگز کسی خاص چیز کے اٹھانے اور کھانے سے محروم نہ کریں۔ 

یہ انتہا پسندی اسلام میں ممنوع ہے۔ اگر گھر کا کوئی بچہ گوشت کو ہاتھ لگانے پر آپ کا تھپڑ کھا بیٹھا تو خدانخواستہ آپ کما حقہ ثواب سے محروم ہوسکتے ہیں۔


*اندازِ بیاں گر چہ شوخ نہیں ھے*


*شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات* 


عید سعیِد کے   

 پرمسرت لمحات میں خاکسار شاہ فیصل ہمدانی کو اپنی مخلصانہ دعاؤں میں یاد رکھنا نہ بھولیے گا ۔

ہفتہ، 18 جون، 2022

چند چیزیں جو یونیورسٹی سے باہر آکر دیکھنے/سیکھنے کو ملیں

 #specially #For #Teachers

چند چیزیں جو یونیورسٹی سے باہر آکر دیکھنے/سیکھنے کو ملیں 


1۔ یہ ایک غلط فہمی ہوتی ہے کہ ہم ایم ایس سی/ایم فل کر کے آرہے ہیں تو ہمارے برابر کا کوئ نہیں ہے،مارکیٹ میں ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہنر مند اور با صلاحیت لوگ موجود ہیں۔ 


2۔ نالج جہاں سے مل رہا ہو اسے حاصل کریں اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ جی میں نے تو ماسٹرز کیا ہے اور مجھے سب آتا ہے۔


3۔ چاہے آپ گولڈ میڈلسٹ ہو یا آپ کی #Cgpa  اپنی کلاس میں سب سے لوئسٹ ہی کیوں نہ تھی ۔ فیلڈ میں آپ تب کامیاب ہوں گے جب آپ اپنا پڑھانے کا لیول سٹوڈنٹس کے حساب سے ایڈجسٹ کریں گے۔


4۔ کسی بھی سکول/کالج میں پڑھاتے ہوئے وہاں کے سینئر سٹاف کا چلتے پھرتے 2،4 منٹ کا لیکچر سن لیا کریں اور ان کا وائٹ بورڈ کا استعمال دیکھا کریں کیونکہ وائٹ بورڈ استعمال کرنا بھی ایک آرٹ ہے جو کہ ہم میں سے %70 لوگوں کو نہیں آتا۔


5۔ جتنی legs pulling ایک ہی سجکیٹ کا ٹیچر کررہے ہوتے ہیں اتنی کوئ دوسرا نہیں کرتا۔ 


6۔ اکثر سکول/کالج میں #ڈیمو لیا جاتا ہے یا کہا جاتا ہے کہ آپ کو ہم ایک ہفتہ ٹرائیل بیس پر رکھ رہے ہیں۔ یہ سب کرنے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ دیکھا جائے کہ آپ کو کیمسٹری آتی ہے یا نہیں ۔ بلکہ وہ آپ کا کلاس روم میں #باڈیلینگوج  #ڈسپلن اور #لیکچرڈلیور_میتھڈ چیک کر رہے ہوتے ہیں ۔


7۔ پرائیویٹ ڈیپارٹمنٹ میں آپ تب تک سٹیبل ہو جب تک آپ ادارے کے مفادات اور ہیڈ کی good book میں ہیں اور اگر آپ کمزور بچوں کو پاس کرانے کی ایبلٹی رکھتے ہوں  تو یہ بھی آپکی سٹیبیلیٹی میں اضافہ کرتا ہے۔


08۔ جیسے ہی آپ کی ڈگری کمپلیٹ ہو اگر گورنمنٹ جابز نہیں آئی ہوئی تو پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنا سٹارٹ کر دیں اگر پرائیویٹ میں بھی جگہ نہیں مل رہی اپنے محلہ کے کوئی 3 4 بچوں جو میٹرک ایف ایس سی کے ہوں ان کو مفت پڑھانا شروع کر دیں۔ بجائے اس کے کہ 2 سال تک ایسے اپنے آپ کو زنگ آلود کرتے رہیں۔


09۔کلاس روم میں جانے سے پہلے 5 منٹ اپنا ٹاپک دیکھ کر جائیں چاہے آپ کتنی ہی بار اسے پڑھا چکے ہیں ۔ آپ کو مزید کچھ نئی باتیں نئے پوائنٹس ملیں گے۔


12۔ کامیاب ٹیچر بننے کے لئے اپنے بچوں میں #Questioning کا اعتماد بحال کریں کیونکہ جو سوال جواب کلاس میں ہوں گے ان سے آپ کو اتنا کچھ سیکھنے کو ملے گا جتنا آپ نے کبھی اپنی سٹوڈنٹ لائف میں نہیں سیکھا ہوگا۔


10۔ کہیں پر بھی آپ سے کوئی سوال پوچھتا ہے دکھنے میں وہ چاہے ایک چھوٹے لیول کا سوال ہی کیوں نہ ہو آپ کو چاہیے اسے ایک تسلی بخش جواب دیں ۔ اگر نہیں آتا تو کہہ دیں کہ اس کو چیک کر کے بتاوں گا۔ بجائے اس پر طنز و مزاح یا کسی غلط انداز میں جواب دینے کے ۔ 


11- ہر ھال میں شکر پڑھا کریں کسی سے حسد نہ کیا کریں۔ کیونکہ آپ کسی کے ساتھ ویسے تو لڑائ جھگڑا کر سکتے ہیں اس کا گریبان تک پکڑ سکتے ہیں لیکن اس کے نصیب اس کے لک سے نہ آپ لڑ سکتے ہیں اور نہ اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ سب اللہ کی طرف سے عطا کردا ہے 


12۔ سب سے پہلے آپ اور آپ کی فیملی اس کے بعد کوئی دوسرا ۔ اپنی فیملی کو اہمیت دیں. لوگوں سے وابستہ امیدیں ہمیشہ آپ کو تکلیف اور ٹینشن میں مبتلا کریں گی۔


نوٹ__انسانغلطبھی ہو سکتاہےتومیریباتیں_ بھی غلطہوسکتیہیںاختلاف_ راے سبکاحقہے 


شکریہ

جمعہ، 17 جون، 2022

پرویز مشرف کس نایاب بیماری میں مبتلا ہیں!

 *پرویز مشرف جس بیماری میں مبتلا ہے بہت کم لوگوں کو ھوئی اس میں سے ایک سینئر بش اور دوسرا فرعون تھا*


میرا اپنے اس دوست ڈاکٹر کے پاس رکنے کا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا۔۔ بس سلام دعا کر کے نکلنا چاہتا تھا مگر اتفاق سے اس کے پاس اسکا ایک اور ڈاکٹر دوست بھی آ کر بیٹھا تھا اور یہ دونوں دوست جس عنوان پہ محو گفتگو تھے میں چاہ کر بھی وہاں سے نہ اٹھ پایا۔۔گفتگو دلچسپ بھی تھی سنسی خیز بھی اور عبرتناک بھی۔۔سو میں وہیں رک گیا۔۔

یہ ہفتہ بھر پہلے کی بات ہے جس دن سابق صدر پرویز مشرف کی موت کی خبریں دھڑا دھڑ چلائی جا رہی تھیں۔۔اور اسی تناظر میں سنیئر ڈاکٹر اپنے جونیئر دوست کو اس پراسرار بیماری سے آگاہ کر رہا تھا جس نے اس شخص کو اپنی گرفت میں لے کر اہل جہاں کیلئے یوں عبرت کا نشاں بنا دیا کہ دنیا کے جدید ترین ہاسپیٹلز اور ماہر ترین ڈاکٹرز نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے۔۔

*ڈاکٹر بتا رہا تھا کہ اس بیماری کو ایملوئیڈوسز (Amyloidosis) کہتے ہیں۔ اور دنیا میں یہ ایسی نایاب بیماری ہے کہ اس سے بہت کم لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ اس بیماری کو قدرت نے چند ایک مخصوص کرداروں کیلئے رکھا ہوا ہے۔*


 *ایسے کردار *جن پہ خود کو ہی سب کچھ سمجھ لینے کا جنون اور پاگل پن سوار تھا۔۔*


*ایسے لوگوں کو جب یہ نایاب بیماری اپنے بے رحم شکنجے میں لیتی ہے تو ان کے پورے جسم کے اعضاء یعنی دل، دماغ، گردے، تلی اور جسم کے دیگر حصوں کے سیلز میں ایملوئیڈ (Amyloid) کے غیر معمولی پروٹین جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔۔ان پروٹین کی غیر معمولی افزائش کے نتیجہ میں متاثرہ شخص کے اعضاء کی کارکردگی نہ صرف متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ مریض ہلنے جلنے سے بھی قاصر ہو جایا کرتا ہے۔۔*


79 سالہ سابق صدر 2018ء سے اس پراسرار اور نایاب بیماری کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انکی حالت کو تشویش ناک قرار دے رکھا ہے۔۔

یہ بیماری کیوں لاحق ہوتی ہے۔۔اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے حیران کر دینے والا جواب دیا کہ میڈیکل سائنس باوجود اتنی تحقیق و جدید ہونے کے ابھی تک یہ کھوج لگانے میں ناکام رہی ہے کہ اس بیماری کے لاحق ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔البتہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جین میں تبدیلی اس بیماری کے لاحق ہونے کی وجہ ہو سکتی ہے۔۔

*اس بیماری کی علامات میں مریض کا خود کو کمزور اور تھکا ہوا محسوس کرنا، وزن کا بلاوجہ گر جانا، پیٹ، ٹانگوں، پاوں، ٹخنوں کا سوج جانا، جلد پر خراشوں کا آجانا، آنکھوں کے گرد جامنی دھبوں کا پڑ جانا، ہلکی سی چوٹ لگنے پہ بھی خون کا معمول سے زیادہ نکلنا، زبان کا حجم بڑھ جانا اور سانس کا پھول جانا شامل ہے۔۔*

*( میں چاہوں گا کہ ہم سب سابق صدر کو لاحق بیماری کی وجہ سے درپیش علامات کو دوبارہ پڑھیں، عبرت حاصل کریں اور عافیت مانگیں)*

*ایملوئیڈوسز کی تشخیص اور علاج دنیا بھر میں موجود بیماریوں کے مقابلہ میں مشکل ترین ہے۔ اسکی تشخیص کیلئے ڈاکٹر بائی آپسی (Biopsy) کے ذریعے متاثرہ اعضاء سے مریض کے سمپلز لیتے ہیں۔*

ڈاکٹر فرما رہے تھے کہ ابھی تک اس بیماری کا کوئی علاج نہیں۔۔آپ موجودہ ترقی یافتہ دور میں بھی میڈیکل سانئس کو اس بیماری کے سامنے بے بس پایئں گے۔ بس اس بیماری کے بعد وہ مریض ہوتا ہے۔۔اس کے اہل خانہ یا پھر خدائے بزرگ و برتر۔۔کہ وہ اس شخص کو کب تک اس حالت میں رکھنا چاہے۔۔

*سابق صدر پچھلے کئی برسوں سے اس کنڈیشن میں ہے۔۔ان کے اعضاء گل سڑ رہے ہیں۔۔وہ دیکھتے ہیں مگر پہچان نہیں پاتے، زبان ہے مگر بولنے سے قاصر ہیں۔۔ہاتھ پاوں موجود ہیں مگر انکو حرکت دینے سے قاصر ہیں۔۔ کان سلامت ہیں مگر سننے کی صلاحیت کب کی کھو چکے ہیں۔۔ انکی ٹانگیں وجود کا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہیں ۔۔ان کا کھانا پینا بند ہے۔۔وہ برائے نام لیکویڈ چیزوں پہ زندہ ہیں۔۔اور ستم ظریفی یہ کہ انکی اس خراب تر کنڈیشن میں بھی انہیں وینٹی لیٹر پہ منتقل کرنا ممکن نہیں۔۔بس ایک بے بسی ہے۔۔لاچارگی ہے۔۔عبرت کا سامان اور توبہ کا مقام ہے۔۔*

ڈاکٹر صاحبان کی بحث ابھی جاری تھی مگر میں نے کہیں آگے جانا تھا۔۔سو میں اٹھا ہاتھ ملایا اور اجازت لینے سے پہلے ایک سوال کا جواب چاہا۔۔کہ ماضی میں بھی یہ بیماری کسی کو لگی ہے۔۔جس کا شکار ہمارے سابقہ صدر ہیں۔۔؟ اس پہ کچھ دیر ڈاکٹر نے سوچا اور پھر کہا۔۔ شاید بش سنیئر کو۔۔اور کچھ لوگوں کے بقول فرعون کو بھی۔۔اس وقت چونکہ میڈیکل نے اتنی ترقی نہیں کی تھی۔۔مگر تاریخ میں لکھی اسکی موت کی وجوہات میں بھی علامات یہیں تھیں۔۔*

مجھ میں اس سے زیادہ سننے کی سکت نہیں تھی۔۔میں تیز قدموں سے نکلا اور باہر موجود بھیڑ میں گم ہوتا گیا۔۔

سابق صدر کا موضوع جو کہ جلد کلوز ہونے والا ہے۔۔اس پہ میری یہ غیر جذباتی تحریر آخری تحریر ہے۔۔کیونکہ میں نہیں چاہوں گا کہ کسی مرنے والے پہ ایسا کچھ لکھا جائے۔۔ جو مناسب نہ ہو۔۔۔تاہم اتنا ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ 


*اس دنیا کو اسی لیئے باعث تماشہ بھی کہا جاتا ہے اور باعث عبرت بھی۔۔*کیا کوئی تصور بھی کر سکتا ہے کہ چند سال پہلے کا وہ طاقتور شخص جس کے حکم پہ سینکڑوں لوگ موت کے گھاٹ اتار دیئے جاتے تھے۔۔جس نے باجوڑ مدرسہ میں بمباری اور سو کے قریب بچوں کی شہادت پہ اپنی چھاتی پہ ہاتھ مار کے کہا تھا کہ یہ ہم نے کیا ہے۔۔جس نے اسلام آباد کے وسط میں موجود مدرسہ و مسجد کو تہس نہس کر کے معصوموں کے جسموں کے پرخچے اڑاتے ہوئے اسکو اپنی عظیم فتح کہا تھا۔۔جس کی ناقص پالیساں اس ارض پاک پہ خودکش حملوں کا باعث بنیں تھیں۔۔جس نے بگٹی کو کہا تھا کہ میں تمہیں وہاں سے ہٹ کروں گا کہ جہاں سے تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔۔اور تب سے بلوچستان آگ میں سلگ رہا ہے۔۔جس نے کراچی میں ان گنت معصوم لوگوں کی خون آلود لاشوں کو سڑکوں پہ پڑا دیکھ کر اسلام آباد میں مکے ہوا میں لہراتے کہا تھا کہ آج کراچی میں دیکھ لی ہماری طاقت۔۔*


وہ شخص آج دیار غیر میں، لاچارگی و بے بسی کی تصویر بنا موت کا منتظر بھی ہے اور خواہش مند بھی۔۔مگر موت اس سے کوسوں دور بھاگ رہی ہے۔۔وہ اپنے وطن سے دور ہسپتال کے ایک گمنام کمرے میں پڑا واپس اپنی مٹی میں مدفن ہونے کا خواہشمند اور درخواست گزار ہے۔۔جلد ہی اسکی بچی کھچی اور ٹوٹتی جڑتی سانسیں اسکا ساتھ چھوڑ جایئں گی اور یوں کسی قبرستان میں مٹی کے ایک ڈھیر کا اضافہ ہو جائے گا۔۔جسکو کوئی بھی کبھی بھی مڑ کر نہیں دیکھے گا کہ یہاں کون مدفن ہے۔۔


غلام شبیر منہاس


====================

Forwarded as received

June 16, 2022

🪱

اللہ تعالیٰ ہم سب کو آس عبرت ناک انجام سے بچانے۔

آمین

ہفتہ، 11 جون، 2022

نماز کے بارے میں کچھ سوال و جواب

 • حضرت ، ذرا نماز سے متعلق کچھ باتیں پوچھنی ہیں۔"

نوجوان نے بیٹھتے ہی سوال داغا


پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ جہان دیدہ بزرگ نے انتہائی شفقت سے جواب دیا۔۔۔۔


• یہ بتائیں کہ نماز کی نیت زبان سے کرنی ہے کہ دل میں۔


میاں نیت زبان سے کرو یا دل میں کرو، ہر صورت میں خالص ہونی چاہیے۔"


• جواب کچھ عجیب تھا لیکن اگلا سوال :اچھا ہاتھ کانوں تک اٹھانے ہیں یا کاندھے تک؟


 میاں کان اور کاندھے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ حقیقت میں تو ہاتھ نفس کی پوجا سے اٹھانے ہیں۔


• اچھا ہاتھ کہاں باندھنے ہیں، سینے پر کہ ناف کے نیچے ؟


 ارے صاحبزادے، ہاتھ ادب سے باندھنے ہیں ، جہاں ادب محسوس ہو وہیں رکھ لو۔


• سورہ فاتحہ امام کے پیچھے بھی پڑھنی ہے یا چپ رہنا ہے؟


 بھائی ، جب تمہارا نمائیندہ خدا سے سب کے لیے باآواز بلند بول رہا ہو تو تمہیں بولنے کی کیا ضرورت؟ اور جب وہ خاموش ہو تو تمہارے چپ رہنے کا کیا مقصد؟


• اچھا سمجھ گیا لیکن یہ آمین زور سے بولنی ہے کہ آہستہ؟


 میاں، آمین کا مطلب ہے" قبول فرما"۔ تو کبھی یہ آہ زور سے نکلتی ہے تو کبھی آہستہ۔دعا کی قبولیت آواز کی بلندی نہیں دل کی تڑپ کا تقاضا کرتی ہے۔


• سنا ہے رکوع میں کمر اتنی سیدھی ہوئی ہو کہ پانی کا پیالہ بھی پشت پر رکھ دیا جائے تو اس کا لیول برقرار رہے؟


 میاں ، جب غلام جھکتا ہے تو کیا بادشاہ پیالہ رکھ کر کمر کا تناو چیک کرتا ہے؟ وہ تو تمہارے بے اختیار سے جھکنے کو دیکھتا ہے اور بس۔


• کیا رکوع سے اٹھ کر دوبارہ رفع یدین کرنا ضروری ہے؟


 جناب من ، اصل کام تو تکبیر یعنی خدا کی بڑائی بیان کرنا ہے، اب یہ بڑائی ہاتھ اٹھاکربیان کرلو یا بنا ہاتھ اٹھائے۔


• حضور ، کیا سجدے میں اتنا اونچا ہونا لازمی ہے کہ ایک چھوٹا بکری کا بچہ نیچے سے نکل جائے؟


 میرے دوست، سجدہ تو عاجزی و پستی کی انتہائی علامت ہے۔ بادشاہوں کے بادشاہ کے حضور ناک رگڑتے وقت کس کو ہوش ہوگا ہے کہ اونچائی اور لمبائی کتنی ہے؟


• حضرت آپ تو ساری باتوں میں اتنی وسعت اور آپشنز پیدا کررہے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "صلو کما رائتمونی اصلی" یعنی نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔


 ارے بھائی ہم نے تو نبی کریم کو نماز میں روتے ہوئے دیکھا گڑگڑاتے دیکھا، ادب و احترام کا پیکر بنے قیام میں دیکھا قرآن کو سمجھ کر پڑھتے ہوئے دیکھا، اپنے رب کے آگے بے تابی سے جھکتے دیکھا، تڑپتے ہوئے سجدہ کرتے دیکھا، قومہ و قعدہ میں بھی دعائیں مانگتے ہوئے دیکھا، تسبیحات بدل بدل کر پڑھتے ہوئے دیکھا، اپنے رب کو خوف و امید سے پکارتے ہوئے دیکھا۔ہم نے یہی دیکھا اور یہی سمجھا کہ نماز کا اصل مغز یہی سب کچھ ہے ۔ یہی وہ نماز ہے جس کے لیے نبی نے حکم دیا کہ نماز اس طرح پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔ 


• بات اس کی سمجھ آچکی تھی کہ آج تک وہ نماز پڑھتا تو رہا ، ادا نہ کرپایا۔ موذن حی علی الصلوٰۃ کی صدائیں لگارہا تھا اور وہ اس حکم پر عمل کرنے کے لیے بے تاب تھا " صلو کما رائیتمونی اصلی"---"نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ 

                              نوٹ 

 مختصر یہ کہ آپ جیسے بھی نماز ادا کریں گے نماز ادا ہو جاۓ گی ۔ اب اختلاف ختم کرکے یہ دیکھیں کی اس طرح نماز پڑھتے نمازی کتنے فیصد ہیں اور ایسی نماز کے بارے میں فرمایا تھا کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔۔۔۔