اتوار، 20 جولائی، 2025

مشال کا قتل، چند سوالات مع تبصرہ

مشال کا قتل چند سوالات ۔۔۔۔۔۔ !

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مشال مرنے سے چند لمحے کہہ رہا تھا کہ " وہ مسلمان ہے اور اسے ہسپتال پہنچائیں " ۔۔۔۔۔ قتل پر آمادہ ہجوم کے سامنے بھلا وہ اور کیا کہہ سکتا تھا ؟ راؤلا کوٹ میں مشہور زمانہ گستاخ رفعت عزیز گرفتار ہوا تو وہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھتا رہا اور سچا پکا مسلمان بن گیا تھا۔

مشال کے حق میں سب سے اہم گواہی عبداللہ نامی لڑکے کی ہے؟؟

سنا ہے عبداللہ مشال کا قریبی ساتھیوں میں سے ایک ہے اور اس پر خود بھی گستاخ ہونے کا الزام ہے بلکہ مشال کے ساتھ مار بھی پڑی تھی۔ یوں وہ خود اس سارے معاملے میں ایک فریق بنتا ہے۔ اس فریق کی خود اپنے حق میں گواہی کیسے قابل قبول ہوگئی؟

مشال کی ٹائم لائن پر گستاخانہ مواد موجود نہیں تھا۔
گستاخ بلاگرز کے خلاف جسٹس شوکت عزیز صدیقی والے ایکشن کے بعد ان تمام گستاخوں نے اپنی ٹائم لائن " صاف " کر لی تھی جن کو لوگ جانتے تھے۔ پکڑے جانے کے ڈر سے۔
ایسی صورت میں مشال اپنی ٹائم لائن پر گستاخانہ مواد کیسے چھوڑ سکتا تھا؟

مشال نے دعوی کیا تھا کہ اس کی فیک آئی ڈی بنا کر اس سے ایک اور فیک آئی ڈی کو میسجز کیے جا رہے ہیں جو ایک لڑکی کی ہے تاکہ اس کو لڑکیوں کا شوقین ظاہر کر کے بدنام کیا جا سکے۔
تو ہم یہ مان لیں کہ فیس بک پر اتنی معمولی بدنامی کے ڈر سے لوگوں کو آگاہ کرنے والے مشال کی "ایک اور مبینہ فیک آئی ڈی" سے تین سال تک مسلسل ملحدانہ اور گستاخانہ مواد شیر ہوتا رہا اور وہ چپ رہا ؟ کیا واقعی ؟؟

یونیورسٹی نے اس قتل سے پہلے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس میں مشال پر مبینہ گستاخی کے الزامات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور تب تک اس پر یونیورسٹی میں داخل ہونے کی پابندی تھی۔
کیا واقعی اتنا بڑا اور خطرناک الزام بغیر کسی وجہ کے لگا لیا گیا تھا اور اتنے خطرناک الزام کے جواب میں مشال نے جس بے پروائی بلکہ بے نیازی کا مظاہرہ کیا اس سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ ان "الزمات " کا عادی تھا یا یہ اس کے لیے معمول کی بات تھی۔ کیوں ؟ ؟

کسی عام شخص پر اتنا خطرناک الزام لگے تو وہ بھاگا بھاگا پولیس یا پریس وغیرہ کے پاس پہنچے اپنی صفائیاں دیتا رہے۔

سنا ہے قتل کے الزام میں لگ بھگ 46 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس کو مشال کے خلاف گستاخی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
اگر فیس بک کی ٹائم لائن صاف کر لی جائے اوراس کے بعد کوئی زبانی گستاخی کرے تو آپ اس کو کیسے ثابت کرینگے ؟؟؟ 
گواہی سے ؟؟
اور گواہوں کی اکثریت یا سارے گواہ خود قتل کے الزام میں اندر ہوں تو ؟؟
ثبوت کہاں سے آئیگا؟
گستاخ سٹامپ پیپز پر لکھ کردینے سے تو رہا۔ 

مشال کے مبینہ قاتلوں کے میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا۔
کیا کوئی بتا سکتا ہے اس کے قتل کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں اور کتنوں کو گرفتار کیا گیا؟ زیرو دلچسپی !!

اگر تحقیقات میں جانبداری کا یہ عالم ہے تو ان کے نتائج پر کوئی کیسے بھروسہ کر سکتا ہے؟؟ ویسے کیا واقعی ہماری عدالتوں میں اس شخص کا جرم ثابت ہو سکتا ہے جس کے پیچھے اتنی بڑی لبرل طاقتیں کھڑی ہوں؟

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مشال مارکسس تھا لیکن ملحد نہیں تھا۔ ملحد تھا لیکن گستاخ نہیں تھا۔ ان میں سے کون سی بات آپ مان سکتے ہیں؟؟ :)

کم از کم میں نے ذاتی طور پر مشال کو ایک لمحے کے لیے بھی معصوم نہیں سمجھا!

مشال کے قتل پر چلائی جانی والی اتنہائی طاقتور میڈیا اور سوشل میڈیا مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب گستاخان رسولﷺ کو قتل کرنے والے ہیرو نہیں کہلائیں گے

۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔

لیکن گستاخاں رسول کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں کیونکہ مسلمان ایسے قتل ہیرو بننے کے لیے نہیں کرتے اس لیے ۔۔۔۔ :)

ملحدین اکثر ہمیں بتاتے ہیں کہ قائداعظم نے سیکولرازم کا سبق دیا ہے۔ اس کو فالو کریں۔ قائداعظم نے گستاخ رسولﷺ کے قاتل غازی علم دین شہید کا مقدمہ ھائی کورٹ میں لڑا۔ میرے خیال میں قائداعظم کے اس عمل کو بھی فالو کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا خیال ہے؟

رسول اللہ ﷺ کی محبت میں مسلمان قانون تو کیا بعض اوقات شریعت کے تقاضے بھی بھول جاتے ہیں۔ اب یہ پتہ نہیں صحیح ہے یا غلط لیکن ہے سچ۔

اور یہ بات گستاخوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے!

تحریر شاہدخان

مندرجہ بالا تحریر پر تبصرہ
اسی لئے تو عدالت میں معاملہ لے جانا بہتر ہوتا ہے. ماورائے عدالت اگر قتل درست بھی ہو تو ثابت نے کر سکنے کی صورت میں قاتل خود پھنس جاتا ہے. اور جو شخص کسی مذہبی وجہ سے اور بہ نیت ثواب قتل کرے وہ خود کو چھپاتا نہیں.
ان سارے سوالات میں ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کی قانونی کارروائی سے غفلت کا سوال بھی اٹھتا ہے.
جس طرح ہمیں گستاخی برداشت نہیں، اسی طرح مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون شکنی بھی برداشت نہیں ہونی چاہیے.
قانون میں خامیوں کو درست کیا جائے نہ کہ قانون ہاتھ میں لیا جائے.

پیر، 8 اگست، 2022

ایک ایک چپو تھام لو!

 . ایک ایک چپو تھام لو!   


           گھر میں کسی کو بخار ہو تو گھر کے افراد مناسب سی توجہ دیتے ہیں.. کسی نے ساتھ لیجا کر دوا لادی. یا تھوڑی دیر کے لیے پاس بیٹھ کر دلجوئی کردی. لیکن کاروبار، ملازمت سمیت معمول کے کام سب کے چلتے رہتے ہیں. لیکن خدا نخواستہ اگر کسی فرد کو کوئی بڑا مسئلہ درپیش ہوجائے جیسے کوئی خطرناک حادثہ یا فالج وغیرہ تو سب لوگ سب کام چھوڑ چھاڑ کر پوری توجہ اورتمام وسائل مہیا کرکے اس مریض کی بہتری کی تگ ودو میں لگ جاتے ہیں. اور اس وقت تک معمولاتِ زندگی بحال نہیں ہوتے جب تک کہ مذکورہ شخص موت وحیات کی کشمکش سے نکل نہ جائے. 


          وطن عزیز کی معاشی حالت بالکل ایسی ہی ہے جیسے کسی جاں بلب مریض کی ہو. ایسے میں سب سے پہلے سرکار اور پھر اپوزیشن اور اس کے بعد ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جہاں تک ہوسکے اپنے معمولات میں سے وقت نکال کر کچھ لمحات اس جاں بلب مریض کی بہتری کے لیے صرف کریں. جیسے کسی مریض کو خون چاہیے ہوتا ہے تو ہر کوئی بھاگ دوڑ کرکے خون کا بندوبست کرتا ہے، یا کسی مریض کو سٹنٹ یا امپلانٹ چاہیے تو اس کا بندوبست کیا جاتا ہے… بالکل ایسے ہی اس مریض کی ضرورت ہے ڈالرز.. 


    آپ کو اگر اس مریض سے محبت ہے تو یہ مت دیکھیں کہ ڈاکٹر آپ کی پسند کا ہے یا نہیں آپ دوا کا بندوبست کریں. کہیں ایسا نہ ہو کہ پسند کے ڈاکٹر کے انتظار میں مریض کی سانسیں اکھاڑنا شروع ہوجائیں. 


        ڈالر حاصل کرنے کے لیے سب سے فوری طریقہ آئی ٹی کا میدان ہے. جیسا کہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت نے گذشتہ سال سافٹویئر کی برآمدات سے ڈھائی سو ارب ڈالر زرمبادلہ حاصل کیا جبکہ ہم نے صرف دو ارب ڈالر . ہم اس سے پانچ گنا کم آبادی والا ملک ہیں تو ہمیں کم از کم چالیس ارب ڈالر کو کمانا چاہئیں. چالیس تو چھوڑیں جی اگر ہم صرف دس ارب ڈالر ہی مزید اس سیکٹر سے حاصل کرلیں تو ہمارے سروں سے خسارے کی لٹکتی تلوار ہٹ جائے گی. 


        کیا رکاوٹ ہے جناب . سینکڑوں تعلیمی ادارے ہزاروں بی سی ایس پیدا کررہے ہیں تو کیوں اس رفتار بہتری نہیں آرہی. سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے افراد کی قابلیت کا معیار وہ نہیں جو عالمی منڈی میں سافٹویئر برآمد کے لیے چاہیے اور پھر ہمارے لوگوں کا رویہ بھی انتہائی خام ہے. سہل پسندی غالب ہے وقت ضائع کرتے ہیں مگر اپنی صلاحیتوں کو بہتر نہیں کرتے. ہمارا خیال ہے کہ اچھے تعلیمی اداروں کے اساتذہ میں کم از کم ایک ایسا فرد ضرور ہونا چاہیے جو عملی طور پر اس میدان میں کام کرچکا ہو. اور طلبا کی ڈگری دینے سے پہلے ہی اس قدر تربیت کسری جائے کہ وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر عالمی معیار کی برآمد کے قابل اپلیکیشنز بنانا شروع کردیں. 


   پھر ایک بہت بڑا در اس وقت ایمزون کا کھلا ہے. جس میں ذرا سی کوشش سے نہ صرف ہزاروں نوجوان برسرِ روزگار ہوسکتے ہیں بلکہ ملک کے لیے کروڑوں ڈالر کا زر مبادلہ کماسکتے ہیں. اس میں مگر ایک قباحت ہے کہ وطن عزیز میں ابھی اس معیار کی اس قدر وافر اشیاء نہیں بنایی جاتیں مجبوراً ہمیں چی. ی اشیاء کی فروخت کرنا پڑتی جس کے لیے زرمبادلہ پہلے چین بھیجنا پڑتا ہے. اور بعد میں ہماری کمائی شروع ہوتی ہے. 


      نوجوانوں کی ایک فوج کو سینکڑوں ہنر سکھلا کر وسط ایشیاء اور دیگر ممالک میں کام کے لیے بھیجا جاسکتا ہے. اس وقت بھی پاکستان کی کل برآمدات کے نصف کے قریب زرمبادلہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ہی آتا ہے. اگر ہم نوجوانوں کو تین چار ماہ کے ویلڈنگ یا تعمیرات کے شعبے کے دوسرے ہنر کے کورسز کروا کر ان کی سرٹیفیکشن کرکے باہر بھیجیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کو مزید بڑھایا نہ جاسکے . 


         گاڑیوں، ٹریکٹروں اور ان کے فاضل پرزہ جات سے بھارت سالانہ اسی ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کرتا ہے آبادی کے تناسب سے ہمیں سولہ ارب ڈالر کی برآمدات کرنا چاہئیں.. مگر ہماری برآمدات اس مد میں آدھے ارب ڈالر سے بھی کم ہیں. کس قدر بڑا میدان ہے. فارغ بیٹھے دوستوں سے گزارش ہے کہ اس میدان میں ہنر سیکھیں.. آئی ٹی سیکٹر کی طرح یہ بھی ایسا میدان ہے جس میں بہت کم سرمایہ کاری سے اپنا کام شروع کیا جاسکتا ہے. 


     دنیا بھر میں فروزن فوڈ کا ڈھائی سو ارب ڈالر کا سالانہ کاروبار ہوتا ہے. دس ارب ڈالر کا خشک پھلوں اور لگ بھگ اتنا ہی خشک سبزیوں کا. پھر ٹن پیک فوڈ کا حجم بھی قریب اتنا ہی ہے. زرعی ملک ہونے کے ناطے، تین سو ارب ڈالر سالانہ کے اس کاروبار میں ہم ایک فیصد بھی حصہ لیں تو تین ارب ڈالر بنتے ہیں. مصر صرف متحدہ ارب امارات کو دوسوٹن ماہانہ سرکے کا اچار فراہم کرتا ہے ہم کیوں نہیں کرسکتے. 


      پھر ہنڈی کرافٹس ہیں، کھلونے ہیں، پنکھے، جوسرز، ہئیر ڈرائیرز اور اس طرح کی ان گنت گھریلو اشیاء جس کے لیے بہت زیادہ ہنر اور بہت مہنگی مشینری درکار نہیں. ادویات اور ان کا خام مال ہے، کیمیائی مرکبات ہیں… اور نہ جانے کیا کیا کچھ. جب لگن اور عزم کے ساتھ تلاش میں نکلیں گے تو بقول شاعر 

         ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں… 


    دوستو اس بھنور میں پھنسی کشتی کا ایک ایک چپو تھام لو… آؤ مل کر زور لگاتے ہیں انشاءاللہ اسے نہ صرف اس بھنور سے نکال دیں گے بلکہ ہمیشہ کے لیے بہت محفوظ مقام پر لیجائیں گے… 


                   ( ابن فاضل )

#ابن_فاضل

#Ibn_e_fazil

زوال پذیر معاشرے کی علامات

 Worth Reading


ہر وہ ملک جس کے بادشاہ، حکمران، وزیر، مشیر ، بیوروکریٹس اور تاجر بڑے گھروں، بڑے دفتروں میں رہتے ہیں 

وہ ملک وہ معاشرہ زوال پذیر ہوگا‘‘-

میں خاموشی سے سنتا رہا،

انہوں نے فرمایا:

"پورا عالم اسلام بڑے گھروں کے خبط میں مبتلا ہے،

اس وقت دنیا کا سب سے بڑا محل برونائی کے سلطان کے پاس ہے ،

عرب میں سینکڑوں ہزاروں محلات ہیں اور ان محلات میں سونے اورچاندی کی دیواریں ہیں، اسلامی دنیا اس وقت قیمتی اور مہنگی گاڑیوں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے‘‘-


"تم پاکستان کو دیکھو،

تم ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، کور کمانڈر ہاؤسز، آئی جی ، ڈی آئی جی ہاؤسز، ڈی سی اوز ہاؤس اور سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو دیکھو،

یہ سب کیا ہیں؟

یہ سب بڑے گھر ہیں،

پاکستان کے ایک ضلع میں18ویں گریڈ کے ایک سرکاری عہدیدار کا گھر 106کنال پر مشتمل ہے،

اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس کا رقبہ قائد اعظم یونیورسٹی کے مجموعی رقبے سے چار گنا ہے،

لاہور کا گورنر ہاؤس پنجاب یونیورسٹی سے بڑا ہے،

اور ایوان صدر کا سالانہ خرچ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے"

میں خاموشی سے سنتا رہا.

پھر بولے:

"تم لوگ اپنے حکمرانوں کے دفتر دیکھو،

ان کی شان و شوکت دیکھو،

ان کے اخراجات اور عملہ دیکھو،

کیا یہ سب فرعونیت نہیں؟

کیا اس سارے تام جھام کے بعد بھی اللہ تعالیٰ ہم سے راضی رہے گا"؟؟

جبکہ اس کے برعکس تم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا لائف سٹائل دیکھو ،

بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے،

دنیا میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں،

باقی 192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں،

لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے،

وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے ،

وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے،

اور اس کا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں.

وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے.

اس کے پاس 50 برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے،

اس کے پاس 1980ء کی گاڑی ہے،

اور وہ روز کوکا کولا کے ڈبے سٹورز پر سپلائی کرتا ہے.

برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس

دو بیڈروم کا گھر ہے.

جرمنی کی چانسلر کو سرکاری طور پر ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم ملا ہے.

اسرائیل کا وزیراعظم دنیا کے سب سے چھوٹے گھر میں رہ رہا ہے،

کبھی کبھار اس کی بجلی تک کٹ جاتی ہے.

بل کلنٹن کو لیونسکی کیس کے دوران کورٹ فیس ادا کرنے کے لئے دوستوں سے ادھار لینا پڑا تھا.

وائیٹ ہاؤس کے صرف دو کمرے صدر کے استعمال میں ہیں،

اوول آفس میں صرف چند کرسیوں کی گنجائش ہے.

جاپان کے وزیراعظم کو

شام چاربجے کے بعد سرکاری گاڑی کی سہولت حاصل نہیں.

چنانچہ تم دیکھ لو

چھوٹے گھروں والے یہ لوگ

ہم جیسے بڑے گھروں والے لوگوں پر حکمرانی کررہے ہیں....

یہ ممالک آگے بڑھ رہے ہیں

اور ہم دن رات پیچھے جا رہے ہیں"

(Copied)

لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر خریدنے کے لیے راہنمائی

 نیا یا پرانا کمپیوٹر کیسے خریدا جائے

نئےاچھے لیپ ٹاپ کی نشانیاں

=====================

1..ریم: کم از کم 8 جی بی یا زیادہ سے 16 جی بی

اگر ریم 8 جی بی ہو تو ایک سلاٹ میں ہونی چاہئے اور ایک سلاٹ خالی ہو اس میں 8 جی الگ سے خرید کر ڈالی جا سکتی ہے یعنی ریم بعد میں زیادہ کی جا سکتی ہے 


2..ہارڈ ڈسک یعنی میموری ssd ہونی چاہئے جبکہ hdd تین گنا slow ہوتی ہے اور بیٹری بھی زیادہ استعمال کرتی ہے اس لیے صرف ssd ہی کام کے لیے بہتر ہے 


3..جنریشن جتنی زیادہ اتنا ہی جدید یعنی 4th جنریشن سے 5th بہتر اور 5th سے 6th بہتر 

سب سے جدید اس وقت تک 11th جنریشن ہے 


4..پروسیسر کی 3 اقسام: 

core i3، i5 & i7.

جبکہ 

i7 is the best

 

5..اگر آپ نے 

گرافیکل کام کرنا ہے تو 

کم از کم 2gb گرافک کارڈ بھی ضروری ہے


6..بیٹری 🔋 lithium سیلز کی ہونی چاہئے

لیپ ٹاپ کی بیٹری جتنے mAh کی ہوتی ہے وہ بھی دیکھ لیں

یوزڈ used میں لیپ ٹاپ لیں تو تسلی کر لیں کہ کتنے mAh بیٹری بقایا ہے


      Second hand Laptops

       ...................................

1..لیپ ٹاپ لیتے ہوئے زیادہ تر دھوکہ ڈسپلے میں ہوتا ہے

یعنی اصل ڈسپلے نکال کر کوئی لوکل ڈالا ہوتا ہے، اس کو چیک کرنے کا طریقہ یہ ہے

 اگر آپ نے استعمال شدہ لیپ ٹاپ لینا ہے تو یہ معلومات آپ کے لیے ہے 

دکان دار پرانا لیپ ٹاپ بیچتے ہوئے ایسا وال پیپر لگاتے ہیں کہ لوگ ڈسپلے دیکھ کر ہی خوش جاتے ہیں اور وال پیپر بھی اس طرح کا ہوتا ہے کہ ڈیمج پکسلز پر نظر نہیں جاتی 

ڈسپلے چیک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ لیپ ٹاپ کی brightness فل کر لیں اس کے بعد آپ نے نوٹ پیڈ اوپن کرکے اسے ساری سکرین پر پھیلا دینا ہے اس سے ساری سکرین سفید ہو جائے گی

اس طرح سکرین میں اگر کوئی پکسل ڈیمج ہے یا کسی جگہ سے سکرین پر دباؤ آیا ہوا ہے تو وہاں سے کالے نشان نظر آ جائیں گے


2..دوسرا آپ نے جو لیپ ٹاپ لینا ہے اسے انٹرنیٹ پر سرچ کر کے اس کی specification میں دیکھ لیں کہ مطلوبہ لیپ ٹاپ کو کونسا ڈسپلے لگا ہے lcd ہے یا led

اگر lcd ہو تو سکرین کو سائیڈو سے دیکھنے سے ڈسپلے ٹھیک نظر نہیں آتا یہ lcd کی نشانی ہے

اور led زیادہ بہتر ڈسپلے ہے


3..تیسرا اہم سوال ہے کہ کی بورڈ کےبٹنوں کا

کیا کوئی بٹن خراب تو نہیں

جو لیپ ٹاپ خریدنا ہو اس لیپ ٹاپ سے گوگل پر سرچ کریں

Keyboard tester


یہ 1 mb کا سوفٹویر ہے ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کر کے اسے اوپن کریں

اور لیپ ٹاپ کے بٹنوں کو ایک ایک کر کے دباتے جائیں 

جو جو بٹن ٹھیک ہو گا وہ سکرین پر سبز رنگ میں بدلتا جائے گا


4..پروسیسر کو چیک کرنے کے لیے آپ نے گوگل میں سرچ کرنا ہے

CPU Z

اس چھوٹے سے سافٹویئر کو ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کر کے اوپن کرنا ہے

اوپن کرنے کے بعد پہلے ہی آپشن میں CPU کی معلومات درج ہوں گی

اس CPU معلومات میں نام والے کالم کے سامنے درج نمبر آپ کو جنریشن کا بتائیں گے 

غور سے سمجھیں 

 مثلاً 

                    Inter core i3,

اس کے بعد اگر تین ہندسے اور لکھے ہوں تو پروسیسر فرسٹ جنریشن ہے

اگر چار ہندسے ہوں تو سیکنڈ یا اس سے اگلی جنریشنز ہیں


مثلاً

           Intel core i3.,,,, 803

یعنی i3 کے بعد تین ہندسے آئے تو مطلب فرسٹ جنریشن

           Intel core i3.,,,, 2304

اس مثال میں i3 کے بعد چار ہندسے آئے تو یہ دوسری جنریشن

اسی طرح

      Intel core i3.,,,, (3)405

      Inter core i3.,,,, (4)505

ان دو مثالوں میں بھی چار ہندسے ہیں لیکن پہلی مثال میں شروع کا ہندسہ 3 ہے تو تیسری جنریشن

دوسری مثال میں شروع کا ہندسہ 4 ہے تو چوتھی جنریشن


یاد رہے کہ پہلے ہندسے کو سمجھانے کے لیے گول بریکٹ لگائی ہے


                                   CPU. Z

اس سوفٹویر کی مدد سے آپ cache اور mother board کی معلومات بھی لے سکتے ہیں


اور یہی سوفٹویر آپ ram کی معلومات اور گرافک کارڈ کی معلومات بھی دے گا


اگر لیپ ٹاپ میں گرافک کارڈ نہیں ہوگا تو معلومات بھی نظر نہیں آئیں گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

5..ہارڈ ڈسک اور بیٹری 🔋 چیک کرنے کا طریقہ

استعمال شدہ لیپ ٹاپ خریدتے وقت ہارڈ ڈسک اور بیٹری چیک کرنے کا طریقہ

آپ نے گوگل پر سرچ کرنا ہے

hard disk sentinel

اس سوفٹویر کو ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کر کے اوپن کریں

Health

اور 

Performance

کی پرسنٹیج ظاہر ہو جائیں گی

اگر ہارڈ ڈسک میں کوئی پرابلم ہو

تو health اور performance لیول 100 پرسنٹ نہیں ہوتا

نیچے نوٹ بھی لکھا ہوتا ہے ہارڈ ڈسک ٹھیک ہو تو بتا دیا جاتا ہے اگر پرابلم یعنی bad sector ہوں تو نوٹ میں لکھے ہوتے ہیں 

         Temperature option

اسی سوفٹویر کے ٹمپریچر آپشن میں آپ ہارڈ ڈسک کا درجہ حرارت معلوم کر سکتے ہیں 

             Smart option 

ہارڈ ڈسک کے باقی سارے ٹیسٹ

 سمارٹ آپشن میں دیکھ سکتے ہیں 

سمارٹ آپشن میں ٹیسٹ ویلیو 0 ہونی چاہئے 

اگر ہارڈ ڈسک مرمت شدہ ہو یعنی مکینک نے bad sector نکالے ہوں تو ویلیو 0 نہیں ہوتی

       Information option

اس آپشن میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کی ہارڈ کس قسم کی ہے 

ایس ایس ڈی ہے یا ایچ ڈی ڈی وغیرہ 


6.بیٹری 🔋 چیک کرنے کا طریقہ 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سٹارٹ سٹارٹ مینو پر رائٹ کلک کر کے ونڈوز پاور شیل اوپن کریں 


اس میں آپ نے یہ لکھنا ہے 👇

powercfg/betteryreport/output 

آگے لکھنا ہے 

-c:\bettery.html-

یعنی یہ آپ نے پاتھ لکھنا ہے اس کے بعد enter کلک کرکے بیٹری رپورٹ محفوظ کر لیں 


سی ڈرائیو میں آپ کی بیٹری رپورٹ محفوظ ہے اسے اوپن کرکے بیٹری کی معلومات دیکھ لیں اس رپورٹ میں پتہ چل جاتا ہے کہ جب لیپ ٹاپ نیا بنا تھا تو بیٹری کتنی تھی

استعمال ہونے کے ابھی کتنی بیٹری بقایا بچی ہے.

والدین کا ادب اور اس کے ثمرات

 *والدین کے ادب کے ثمرات چند واقعات کی روشنی میں*


*واقعہ 1*

*بنی اسرائیل کا ایک یتیم بچہ ہر کام اپنی والدہ سے پوچھ کر ان کی مرضی کے مطابق کیا کرتا تھا۔ اس نے ایک خوبصورت گائے پالی اور ہر وقت اس کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔ ایک مرتبہ ایک فرشتہ انسانی شکل میں اس بچے کے سامنے آیا اور گائے خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ بچے نے قیمت پوچھی تو فرشتے نے بہت تھوڑی قیمت بتائی۔ جب بچے نے ماں کو اطلاع دی تو اس نے انکار کر دیا۔ فرشتہ ہر بار قیمت بڑھاتا رہا اور بچہ ہر بار اپنی اماں سے پوچھ کر جواب دیتا رہا۔ جب کئی مرتبہ ایسا ہوا تو بچے نے محسوس کیا کہ میری والدہ گائے بیچنے پر راضی نہیں ہیں لہٰذا اس نے فرشتے کو صاف انکار کر دیا کہ گائے کسی قیمت پر نہیں بیچی جاسکتی۔ فرشتے نے کہا کہ تم بڑے خوش بخت اور خوش نصیب ہو کہ ہر بات اپنی والدہ سے پوچھ کر کر تے ہو۔ عنقریب تمہارے پاس کچھ لوگ اس گائے کو خریدنے کے لئے آئیں گے تو تم اس گائے کی خوب بھاری قیمت لگانا۔*

*دوسری طرف بنی اسرائیل میں ایک آدمی کے قتل کا واقعہ پیش آیا اور انہیں جس گائے کی قربانی کا حکم ملا وہ اسی بچے کی گائے تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے لوگ جب اس بچے سے گائے خریدنے کیلئے آئے تو اس بچے نے کہا کہ اس گائے کی قیمت اس کے وزن کے برابر سونا ادا کرنے کے برابر ہے۔بنی اسرائیل کے لوگوں نے اتنی بھاری قیمت ادا کر کے گائے خرید لی۔ تفسیر عزیزی اور تفسیر معالم العرفان فی دروس القرآن میں لکھا ہے کہ اس بچے کو یہ دولت والدین کے ادب اور ان کی اطاعت کی وجہ سے ملی۔ تفسیر طبری میں بھی اسی طرح کا واقعہ منقول ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت و ادب کا کچھ صلہ اس دنیا میں بھی دے دیا جاتا ہے۔*


*واقعہ 2*

*بنی اسرائیل کے تین آدمی اکٹھا سفر کر رہے تھے کہ اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ تینوں نے بھاگ کر ایک قریبی پہاڑ کی غار میں پناہ لے لی۔ اسی دوران ایک چٹان اوپر سے گری جس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ غار کے اندر اندھیرا ہوگیا۔ سانس گھٹنے لگا حتیٰ کہ تینوں کو موت سامنے کھڑی نظر آرہی تھی۔ انہوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ بارگاہ الہٰی میں اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کیا جائے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا، اے پروردگار عالم !تو جانتا ہے کہ میرے والدین بوڑھے تھے، میں سارا دن بکریاں چراتا تھا اور شام کو گھر واپس آکر ان بکریوں کا دودھ اپنے والدین کو پلاتا تھا۔ ایک دن گھر واپس آنے میں تاخیر ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ والدین سو چکے ہیں۔ اے اللہ !میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لے کر انتظار کرتارہا کہ جب ان کی آنکھ کھلی تو دودھ پیش کروں گا۔ اسی حال میں میری ساری رات گزر گئی۔ رب کریم !اگر میرا یہ عمل آپ کی نظر میں مقبول ہے تو اس کی برکت سے چٹان کو دور فرما۔ چنانچہ چٹان اپنی جگہ سے سرک گئی اور غار کے منہ کا تیسرا حصہ کھل گیا۔ پھر دوسرے اور تیسرے نے دعا مانگی حتی کہ چٹان ہٹ گئی اور ان لوگوں کی جان میں جان آئی۔ (بخاری شریف: ج۱، ص 493)*


*واقعہ 3*

*ایک نوجوان اپنے والدین کا بڑا ادب کرتا تھا اور ہر وقت ان کی خدمت میں مشغول رہتا تھا۔ جب والدین کافی عمر رسیدہ ہو گئے تو اس کے بھائیوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ اپنی جائیداد کو والدین کی زندگی ہی میں تقسیم کر لیا جائے تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا نہ کھڑا ہو۔ اس نوجوان نے کہا کہ آپ جائیداد کو آپس میں تقسیم کر لیں اور اس کے بدلے مجھے اپنے والدین کی خدمت کا کام سپرد کردیں۔ دوسرے بھائیوں نے برضا و رغبت یہ کام اس بھائی کے سپر د کر دیا۔ یہ نوجوان سارا دن محنت مزدوری کرتا پھر گھر آکر بقیہ وقت اپنے والدین کی خدمت اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال میں گزارتا۔ وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ اس کے والدین نے داعیء اجل کو لبیک کہا۔*

*ایک مرتبہ یہ نوجوان رات کو سو رہا تھا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا اسے کہہ رہا ہے، اے نوجوان !تم نے اپنے والدین کا ادب کیا، انکو راضی و خوش رکھا، اس کے بدلے تمہیں انعام دیا جائے گا۔ جائو فلاں چٹان کے نیچے ایک دینار پڑا ہے وہ اٹھا لو۔ اس میں تمہارے لئے برکت رکھ دی گئی ہے۔ یہ نوجوان صبح کے وقت بیدار ہوا تو اس نے چٹان کے نیچے جا کر دیکھا تو اسے ایک دینار پڑا ہوا مل گیا۔ اس نے دینار اٹھا لیا اور خوشی خوشی گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں ایک مچھلی فروش کی دوکان کے قریب سے گزرتے ہوئے اسے خیال آیا کہ اس دینار کے بدلے میں ایک بڑی سے مچھلی خرید لی جائے تاکہ بیوی بچے آج اس کے کباب بنا کر کھائیں۔ چنانچہ اس نے دینار کے بدلے ایک بڑی مچھلی خرید لی۔ جب گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے مچھلی کو پکانے کیلئے کاٹنا شروع کیا۔ پیٹ چاک کیا تو اس میں سے ایک بہت قیمتی ہیرا نکلا۔ نوجوان اس ہیرے کو دیکھ کر خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ جب بازار جا کر اس ہیرے کو بیچا تو اتنی قیمت ملی کہ اس کی ساری زندگی کا خرچہ پورا ہو گیا۔*


*واقعہ 4*

*ایک بزرگ رات دن عبادت الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔ ایک دفعہ ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے کسی دوست سے ملاقات کرنی چاہئے۔ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک نوجوان اپنی بکریوں کو چرا رہا ہے اور کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ یہ نوجوان اللہ کا دوست ہے تم اس سے ملاقات کر لو۔ وہ بزرگ بیدار ہوئے تو انہیں اس نوجوان سے ملاقات کی جستجو ہوئی۔ ایک دن انہوں نے دیکھا کہ وہ نوجوان اپنی بکریوں کاریوڑ لےکر راستے سے گذر رہا ہے۔ وہ بزرگ اس نوجوان سے مل کر بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ میں چند دن آپ کے گھر مہمان بن کر رہنا چاہتا ہوں۔ نوجوان نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور اس بزرگ کو اپنے گھر لے آیا۔ رات کے وقت دونوں آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ اس بزرگ نے نوجوان سے اپنے خواب کا تذکرہ کیا اور پوچھا کہ تمہارا کونساعمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا ہے کہ تمہیں اس پروردگار نے اپنے دوستوں میں شامل کر لیا ہے؟ یہ سن کر وہ نوجوان آبدیدہ ہو گیا۔ پھر اس نے قریب کا کمرہ کھول کر دکھایا کہ اس میں دو مسخ شدہ چہروں والے انسان بندھے ہوئے تھے۔ وہ بزرگ حیرت زدہ رہ گئے اور پوچھنے لگے کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ نوجوان نے کہا کہ یہ میرے غافل اور گنہگار والدین ہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں ایسی گستاخی کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو مسخ کر دیا۔ میں سارا دن بکریوں کا ریوڑ چراتا ہوں اور جب واپس گھر آتا ہوں تو پہلے والدین کو کھانا کھلاتا ہوں بعد میں خود کھاتا ہوں۔ گو انہوں نے اپنے جرم کی سزا دنیا ہی میں پالی مگر میرا فرض بنتا ہے کہ ان کی خدمت کروں۔ آخر میرے تو والدین ہیں۔ وہ بزرگ حیران ہوئے اور انہوں نے نوجوان کو سینے سے لگا کر کہا کہ ہم نے ساری ساری رات عبادت کی اور ساراسارا دن روزہ رکھا مگر اس مقام تک نہ پہنچ سکے جس مقام پر آپ کو والدین کے ادب اور ان کی خدمت کی وجہ سے پہنچنا نصیب ہوا۔ (حقوق والدین)*


*واقعہ 5*

*حضرت اویس قرنیؓ جلیل القدر تابعین میں سے تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ تو پایا مگر دیدارِ جمال نبویﷺ سے مشرف نہ ہوسکے۔ ہر وقت اپنی والدہ کی خدمت میں مشغول رہتے تھے۔ ایک مرتبہ والدہ سے اجازت طلب کی کہ مدینہ منورہ حاضر ہو کر شرف صحبت حاصل کر سکوں۔ والدہ نے کہا کہ بیٹا جائو مگر جلدی واپس آجانا۔ حضرت اویس قرنی مدینہ منورہ حاضر ہوئے مگر نبی علیہ السلام کسی غزوہ کے لئے مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تھے۔ والدہ کے حکم کی وجہ سے انتظار میں زیادہ نہ رک سکے اور واپس گھر چلے آئے۔ جب نبی کریمﷺ واپس تشریف لائے اور آپﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ قبیلہ قرن کا ایک نوجوان آپ کے دیدار کے لئے حاضر ہوا تھا مگر والدہ کے حکم کی وجہ سے واپس چلا گیا تو نبی علیہ السلام نے اپنا جبہ مبارک حضرت عمرؓ و حضرت علی ؓ کو دیا اور فرمایا کہ میری طرف سے یہ ہدیہ اویس قرنی کو پہنچا دینا اور اسے کہنا کہ یہ جبہ پہن کر میری گناہ گار امت کے لئے مغفرت کی دعا کرے۔ تذکرۃ الاولیاء میں ہے کہ وصالِ نبویﷺ کے بعدحضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے وہ جبہ اویس قرنیؓ کو پہنچا دیا۔*


*واقعہ 6*

*حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی ؒ کے ایک بھائی نہایت عبادت گزار تھے اور رات دن عبادت میں مشغول رہتے تھے جبکہ آپ کا بیشتر وقت والدین کی خدمت و اطاعت میں گزرتا تھا۔ ایک رات جب آپ کے بھائی ذکرو عبادت میں مشغول تھے تو ایک ندا سنی کہ کسی کہنے والے نے کہا ’’ ہم نے تمہارے بھائی کی مغفرت کی اور اس کی برکت سے تمہیں بھی بخش دیا ‘‘ یہ بھائی بڑے حیران ہوئے کہ ذکرو و عبادت میں تو میں ہر وقت مشغول رہتا ہوں مگر مجھے ابوالحسن کے طفیل بخش دیا گیا۔ ندا آئی کہ ہمیں تیری عبادت کی حاجت نہیں بلکہ محتاج ماں کی خدمت کرنے والے کی اطاعت ہمیں مطلوب ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء)*

پانچ لاکھ کا نچوڑ صرف پانچ

 امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کو پانچ لاکھ احادیث یاد تھی ، ایک دن انہوں نے اپنے بیٹے حماد کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹے میں آپکو پانچ لاکھ احادیث کا نچوڑ صرف پانچ احادیث میں بیان کررہا ہوں ۔۔ 


1۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہو۔


2۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ لا یعنی فضول چیزوں کو ترک کر دے۔


3۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہ چیز پسند نہ کرو جو اپنے لیے کرتے ہو۔


4. نبی کریم ﷺ نے فرمایا حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی اور دونوں کے درمیان شبہ کی چیز ہے جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ سو جو شخص شبہات سے بچا اس نے دین محفوظ کر لیا اور جو شخص شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ جائے گا جیسا کہ چرواہا اپنا ریوڑ کسی کھیت کی باڑ کے پاس لے جائےگا تو عنقریب ایسا ہو گا کہ اس کا ریوڑ کھیت میں بھی چرنے لگے گا۔ بلاشبہ ہر بادشاہ نے باڑلگا دی ہے اور اللہ کی باڑ حرام کردہ اشیا ہیں


5۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کامل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے


یہ پانچ احادیث سنانے کے بعد فرماتے ہیں بیٹا ان پانچ احادیث کو آئینے کی طرح رکھنا اور اپنے اعمال کا ان پانچ احادیث پر محاسبہ کرتے رہنا۔ یہ پانچ احادیث ان پانچ لاکھ احادیث کا نچوڑ ہیں جو مجھے یاد ہیں ۔


از مجموعہ امام وصایا امام اعظم رحمۃ اللہ ص: ۶۴

سلیمان الراجحی انتقال کر گئے

 *سلیمان الراجحی انتقال کرگئے انکا شمار دنیا کے 20 سخی / فیاض ترین افراد میں شمار ہوتا ہے ۔ سعودی عرب کے شہر "القصیم" میں واقع کھجوروں کے ایک باغ میں کم و بیش کھجور کے 2 لاکھ درخت ھیں اور یہ باغ راہِ اللہ میں وقف ھے .. اِس باغ میں 45 قِسم کی کھجوریں ھوتی ھیں ، یہاں کی سالانہ پیداوار 10 ھزار ٹن کھجور ھے.. یہ باغ روئے زمین میں پایا جانے والا سب سے بڑا وقف ھے .. اِس باغ کی آمدنی سے دُنیا کے مختلف ممالک میں مساجد کی تعمیر ، خیراتی کام اور حرمین شریفین میں افطاری کے دسترخوان لگائے جاتے ھیں.. یہ باغ سعودی عرب کے امیر ترین شخص "سلیمان الراجحي" نے اللہ کی راہ میں وقف کِیا ھے.. سلیمان الراجحي نے غُربت میں آنکھ کھولی ، وہ اسکول میں پڑھ رھے تھے کہ ایک دن اسکول اِنتظامیہ نے تفریحی ٹُوور تشکیل دِیا اور ھر طالب علم سے ایک ایک ریال جمع کروانے کو کہا ، یہ گھر میں جاتے ھیں مگر والدین کے پاس ایک ریال تک نہیں ھوتا ، یہ بہت روتا ھے ، ٹُوور کے لِئے جانے کی تاریخ قریب آتی ھے ، اِدھر اِن کے سہ ماھی اِمتحانات کا رزلٹ آتا ھے ، یہ* *کلاس میں پوزیشن لیتے ھیں اور ایک فلسطینی اُستاد بطورِ اِنعام اِنہیں 1 ریال دیتا ھے.. یہ دوڑتے ھوئے تفریحی پروگرام کے مسئول کے پاس جاتے ھیں اور 1 ریال جمع کراتے ھیں.. وقت کو جیسے پر لگ جاتے ھیں ، یہ اپنی تعلیم مکمل کر کے جدہ شہر میں ایک کمرے کو بنک کا نام دے کر کام شروع کرتے ھیں ، مختصر عرصے میں الراجحي کے نام سے بنکوں کا ایک جال پورے سعودی عرب میں پھیل جاتا ھے.*.

*سلیمان الراجحي اپنے اِس فلسطینی اُستاد کی تلاش میں نِکلتے ھیں ،اُستاد سے ملاقات ھوتی ھے ، وہ ریٹائرڈ ھو چُکے ھیں ، معاشی حالات ایسے کہ گھر کا چولہا جلانا مُشکل ھوا پڑا ھے ، راجحی اپنے فلسطینی اُستاد کو گاڑی میں بِٹھاتے ھیں اور اُن سے کہتے ھیں کہ میرے اُوپر آپ کا قرض ھے .. اُستاد آگے سے کہتا ھے کہ مجھ مسکین کا کِس پر قرض ھو سکتا ھے ، راجحی اپنے اُستاد کو یاد کراتے ھیں کہ سالوں پہلے آپ نے مجھے 1 ریال اِنعام دِیا تھا ، اُستاد مُسکراتا ھے کہ آپ اب وہ ایک ریال مجھے واپس کرنا چاھتے ھیں؟..*

*راجحی ایک بنگلے کے سامنے گاڑی کھڑی کرتا ھے جِس کے سامنے ایک بیش قیمت گاڑی بھی کھڑی ھے ، راجحی اپنے اُستاد سے کہتا ھے یہ بنگلہ اور گاڑی اب سے آپ کے ھیں ، مزید آپ کے تمام اخراجات ھمارے ذِمہ ھوں گے.. فلسطینی اُستاد کی آنکھوں میں آنسو آتے ھیں اور کہتا ھے کہ یہ عالی شان بنگلہ یہ مہنگی گاڑی یہ تو بہت زیادہ ھے.. راجحی کہتا ھے اِس وقت آپ کی جو خوشی ھے اِس سے بڑھ کر میری خوشی کا عالم تھا جب آپ نے مجھے 1 ریال اِنعام دِیا تھا.. ایسے محسن شناس اِنسان کو اللہ ضائع نہیں کرتا.. سلیمان الراجحی نے 2010 میں اپنے بچوں ، بیگمات اور عزیز و اقارب کو بُلا کر اپنی دولت اُن سب میں تقسیم کر دی اور اپنے حِصے میں جو کچھ آیا وہ سب وقف کر دِیا..اِس وقت سلیمان الراجحي کے وقف کی مالیت 60 ارب ریال سے زیادہ ھے .. یہ سعودی الوطنیہ کمپنی اور الراجحی بینک کے مالک ہیں، جنہوں نے کورونا وائرس کیلئے 170/ ملین ریال امداد کے طور پر دیا ہے ، اور مکہ مکرمہ کے اندر دو ہوٹل وزارت صحت کے حوالے کردیا ہے ۔ گنیز بک میں اب تک سب سے بڑے وقف کے طور پر یہ باغ ریکارڈ کے طور پر درج ہے۔۔*

*فوربس میگزین نے انہیں دنیا کے بیس عظیم فیاض لوگوں میں شمار کیا ہے۔ ان کی سوانح حیات پڑھنے کے لائق ہے۔ شاید سعودی عرب کا کوئی شہر ایسا نہیں ملے گا، جہاں الراجحی فیملی کی طرف سے مسجدیں نہ تعمیر کی گئی ہو، نیز دعوتی سینٹرز، مقراۃ قرانيۃ خیراتی جمعیت وغیرہ میں آپ کا بھر پور تعاون رہتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اپنے ملازمین کو ماہ ختم ہونے سے پہلے ان کی اجرت دے دیتے ہیں جن ملازمین کی تعداد ۱۵۰,۰۰۰ ڈیڑہ لاکھ سے ذیادہ ہے۔*


*اس عظیم ہستی کا انتقال ہوگیا ہے۔*

*انا للّٰہ وانا الیہ راجعون*

ابتدائے محبت کا قصہ

 ابتدائے محبت کا قصہ " 


یہ کہانی شاعر سلطان الرواد نے 2001 میں لکھی تھی۔ اس کہانی نے خلیج عرب کی جامعات کی سطح پر بہترین مختصر کہانی کا ایوارڈ جیتا تھا ۔


شاعر : سلطان الرواد 

عربی سے اردو میں براہ راست ترجمہ نگار : توقير بُھملہ 


عہدِ بعید میں، زمین و آسمان کی آفرینش کے بعد ،جب ابھی بشر کا عدم سے وجود میں آنا باقی تھا، اس وقت زمین پر اچھائی اور برائی کی قوتیں مل جل کر رہتیں تھیں. یہ تمام اچھائیاں اور برائیاں عالم عالم کی سیر کرتے گھومتے پھرتے یکسانیت سے بے حد اکتا چکیں تھیں.

ایک دن انہوں نے سوچا کہ اکتاہٹ اور بوریت کے پیچیدہ مسئلے کو حل کرنا چاہیے،

تمام تخلیقی قوتوں نے حل نکالتے ہوئے ایک کھیل تجویز کیا جس کا نام آنکھ مچولی رکھا گیا.

تمام قوتوں کو یہ حل بڑا پسند آیا اور ہر کوئی خوشی سے چیخنے لگا کہ "پہلے میں" "پہلے میں" "پہلے میں" اس کھیل کی شروعات کروں گا..

پاگل پن نے کہا "ایسا کرتے ہیں میں اپنی آنکھیں بند کرکے سو تک گنتی گِنوں گا، اس دوران تم سب فوراً روپوش جانا، پھر میں ایک ایک کر کے سب کو تلاش کروں گا" 

جیسے ہی سب نے اتفاق کیا، پاگل پن نے اپنی کہنیاں درخت پر ٹکائیں اور آنکھیں بند کرکے گننے لگا، ایک، دو، تین، اس کے ساتھ ہی تمام اچھائیاں اور برائیاں اِدھر اُدھر چھپنے لگیں، 

سب سے پہلے نرماہٹ نے چھلانگ لگائی اور چاند کے پیچھے خود کو چھپا لیا، 

دھوکا دہی قریبی کوڑے کے ڈھیر میں چھپ گئی، 

جوش و ولولے نے بادلوں میں پناہ لے لی، 

آرزو زیرِ زمین چلی گئی، 

جھوٹ نے بلند آواز میں میں کہا، "میرے لیے چھپنے کی کوئی جگہ باقی نہیں بچی اس لیے میں پہاڑ پر پتھروں کے نیچے چھپ رہا ہوں" ، اور یہ کہتے ہوئے وہ گہری جھیل کی تہہ میں جاکر چھپ گیا، 

پاگل پن اپنی ہی دُھن میں مگن گنتا رہا، اناسی، اسی، اکیاسی، 

تمام برائیاں اور اچھائیاں ایک ایک کرکے محفوظ جگہ پر چھپ گئیں، ماسوائے محبت کے، محبت ہمیشہ سے فیصلہ ساز قوت نہیں رہی ، لہذا اس سے فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ کہاں غائب ہونا ہے، اپنی اپنی اوٹ سے سب محبت کو حیران و پریشان ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور یہ کسی کے لئے بھی حیرت کی بات نہیں تھی ۔

حتیٰ کہ اب تو ہم بھی جان گئے ہیں کہ محبت کے لیے چھپنا یا اسے چھپانا کتنا جان جوکھم کا کام ہے. اسی اثنا میں پاگل پن کا جوش و خروش عروج پر تھا، وہ زور زور سے گن رہا تھا، پچانوے، چھیانوے، ستانوے، اور جیسے ہی اس نے گنتی پوری کی اور کہا "پورے سو" محبت کو جب کچھ نہ سوجھا تو اس نے قریبی گلابوں کے جھنڈ میں چھلانگ لگائی اور خود کو پھولوں سے ڈھانپ لیا، 

محبت کے چھپتے ہی پاگل پن نے آنکھیں کھولیں اور چلاتے ہوئے کہا "میں سب کی طرف آرہا ہوں" "میں سب کی طرف آرہا ہوں" اور انہیں تلاش کرنا شروع کردیا، 

سب سے پہلے اس نے سستی کاہلی کو ڈھونڈ لیا، کیوں کہ سستی کاہلی نے چھپنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی اور وہ اپنی جگہ پر ہی مل گئی، 

اس کے بعد اس نے چاند میں پوشیدہ نرماہٹ کو بھی ڈھونڈ لیا، 

صاف شفاف جھیل کی تہہ میں جیسے ہی جھوٹ کا دم گُھٹنے لگا تو وہ خود ہی افشاء ہوگیا، پاگل پن کو اس نے اشارہ کیا کہ آرزو بھی تہہ خاک ہے، 

اسطرح پاگل پن نے ایک کے بعد ایک کو ڈھونڈ لیا سوائے محبت کے، 

وہ محبت کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا حتیٰ کہ ناامید اور مایوس ہونے کے قریب پہنچ گیا، 

پاگل پن کی والہانہ تلاش سے حسد کو آگ لگ گئی، اور وہ چھپتے چھپاتے پاگل پن کے نزدیک جانے لگا، جیسے ہی حسد پاگل پن کے قریب ہوا اس نے پاگل پن کے کان میں سرگوشی کی " وہ دیکھو وہاں، گلابوں کے جُھنڈ میں محبت پھولوں سے لپٹی چھپی ہوئی ہے"


پاگل پن نے غصے سے زمین پر پڑی ایک نوکدار لکڑی کی چھڑی اٹھائی اور گلابوں پر دیوانہ وار چھڑیاں برسانے لگا، وہ لکڑی کی نوک گلابوں کے سینے میں اتارتا رہا حتیٰ کہ اسے کسی کے زخمی دل کی آہ پکار سنائی دینے لگی ، اس نے چھڑی پھینک کر دیکھا تو گلابوں کے جھنڈ سے نمودار ہوتی محبت نے اپنی آنکھوں پر لہو سے تربتر انگلیاں رکھی ہوئی تھیں اور وہ تکلیف سے کراہ رہی تھی، پاگل پن نے شیفتگی سے بڑھ کر محبت کے چہرے سے انگلیاں ہٹائیں تو دیکھا کہ اسکی آنکھوں سے لہو پھوٹ رہا تھا، پاگل پن یہ دیکھ کر اپنے کیے پر پچھتانے لگا اور ندامت بھرے لہجے میں کہنے لگا، یا خدا! یہ مجھ سے کیا سرزد ہوگیا، اے محبت! میرے پاگل پن سے تمھاری بینائی جاتی رہی، میں بے حد شرمندہ ہوں مجھے بتاؤ میری کیا سزا ہے؟ میں اپنی غلطی کا ازالہ کس صورت میں کروں؟ 

محبت نے کراہتے ہوئے کہا " تم دوبارہ میرے چہرے پر نظر ڈالنے سے تو رہے، مگر ایک طریقہ بچا ہے تم میرے راہنما بن جاؤ اور مجھے رستہ دکھاتے رہو" 

اور یوں اس دن کے واقعے کے بعد یہ ہوا کہ، محبت اندھی ہوگئی، اور پاگل پن کا ہاتھ تھام کر چلنے لگی ، اب ہم جب محبت کا اظہار کرنا چاہیں تو اپنے محبوب کو یہ یقین دلانا پڑتا ہے کہ "میں تمھیں پاگل پن کی حد تک محبت کرتا ہوں

Copied

جمعرات، 14 جولائی، 2022

ترقی کی ماں

 ترقی کی ماں !

نعیم مسعود

10 جولائی ، 2022




زندہ ہوتی تو پنجابی میں کہتی ’’پتر ایویں ’جھل کداندا‘ پھرنا اے !‘‘ لیکن ہمیں بھی معلوم ہے، ممتا کے سامنے مروجہ اصولوں اور معروف فارمولوں کی کیا وقعت ہے، اس کا پنجابی میں کہنے کا اردو مطلب ہوتا کہ، ان آوارہ گردیوں میں کیا رکھا ہے گر تحقیق نہیں؟ مگر اس کا کہنا شیریں بیانیوں کا وہ مُرغ و مُتَنجَن ہوتا ہے کہ بس رہنے ہی دیجئے۔ یار ! یہ ہر ماں ترقی ہی کی ماں کیوں بن جاتی ہے؟


گود سے گور تک کا سبق بھی تو وہی دیتی ہے کہ علمی دامن سے چپکے رہنا ہے، بناکر فقیروں کاہم بھیس غالبؔ ... تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں، تو شکایتیں کیسی ؟ جب راقم یہ کہتا ہے کہ امریکہ کو عذابِ الٰہی کے علاوہ کوئی شکست نہیں دے سکتا، تو رقیبوں سے ہم نوا کہتے ہیں چائنہ کم نہیں، روس یہ، روس وہ، جرمنی کی ٹیکنالوجی کی یہ بات اور جاپان کی کمٹمنٹ کی وہ بات۔ میں سنتا رہتا ہوں ، اور وہ امریکی آتش و آہن کے طریقوں اور سلیقوں کو وجہ کامیابی گردان کر مزید سیخ پا ہو جاتے ہیں، تو میں عرض کرتا ہوں ، لوگو! بات امریکی جنگوں اور بموں کی کہانیوں کی نہیں ہے، بات اس کی پانچ ہزار سے زیادہ ان دانش گاہوں کی ہے جہاں محققین قابلِ عمل تحقیق کو رواج اور قوت بخشتے ہیں۔ جب تک امریکہ کی ریسرچ بکتی ہے تب تک امریکہ کو نیست و نابود کرنا دیوانے کے خواب کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اور آپ کے ہاں بھی کوئی دیوانگی کے سپنوں سے ہٹ کر جو سائنس و ٹیکنالوجی کے خواب دیکھتے ہیں، امریکہ ان کو بھی بمعہ اہل و عیال ’’اغوا‘‘ کرنے کیلئے تیار رہتا ہے۔ پھر آپ ماتم کرتے پھرتے ہوکہ برین ڈرین ہوگیا۔ ایف آئی آر کٹواتے پھرتے ہو کہ، فل برائٹ اسکالر شپ بھی امریکی سازش ہے۔ جب آپ جہاد بالقلم بھول جاؤ ، تحقیق کی ان روایات کو بالائے طاق رکھ دو جو کبھی بغداد کے کوچہ و بازار میں نو من تیل بھی رکھتی تھی اور رادھا کا ناچ بھی ، تو امریکہ سے شکایتیں کیسی ؟


جب آپ کا اپنا قرآن بارہا جہاد کی بات کرتا ہےتو کم از کم آپ کی اپنی جامعات جو آپ کی دانش گاہیں اور محققین کی کمین گاہیں ہیں، وہ عہد حاضر میں یہ فرمان کیوں نہیں سمجھتے کہ، سائنس و ٹیکنالوجی و انجینئرنگ ہی جہاد ہے، اور جہاد بالقلم بھی!


ریاست کے اندر کی ’’سب-اسٹیٹس‘‘، اسٹیٹ کی کامرس، اکنامکس، بائیو ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ ، فارماسیوٹکس اور معاشرتی علوم کو کتنا تیار یا خام مال ایکسپورٹ کرتی ہیں، اسی سے حساب لگ جاتا ہے کہ قوم کا تخیل، خواب، امید اور مفید کس ڈگر پر ہیں۔ کسی قوم کے دماغ خالی ہوں گے تو اس کی جامعات ایکسپورٹ کوالٹی کو رواج کیسے بخشیں گی، اگر جامعات ایکسپورٹ کوالٹی کے معیار اور اعتبار کو جنم اور رُخ نہیں دیں گی، تو کوئی اسٹیٹ سوشل انجینئرز اور سماجی سائنس دانوں کو اسٹیٹ مین کا درجہ کیسے دے گی؟ المعروف گلوبل ولیج ایک اکنامک وار پلیس ہے جہاں جنگ و جدل میں بھی مثبت نفسیات دودھ اور شہد کی نہریں بہاتی ہے، جہاں روشن خیالی بائیولوجیکل وار کے در و دیوار پر بھی ویکسین سازی کے پھول اور بیلیں چڑھاتی ہے، جہاں انسان دوست حرص و ہوس کی جنگ میں بھی جوہری توانائی سے زخم دینے کے بجائے کینسر کا علاج اور کوڑھ کی کاشت کا خاتمہ چاہتا ہے، اور یہ سب جنگل کے سوداگر ملکوں میں ملتا ہے مگر کوئی تو ہو جو ہماری وحشتوں کا ساتھی ہو اور امن کے پیامبروں اور بناؤ کے پیغمبروں کی امت میں سے اٹھ کر جہاد بالقلم کی بات کرے اور نوبل پرائز کے حصول پر نظر رکھے کہ ہم آزادی کشمیر کے پلیٹ فارم پر آن بان اور شان سے کہہ سکیں کہ، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور ہمارے کہنے کا وزن ہو۔


دو تین ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف ہمیں تگنی کا ناچ نچا رہاہے، کبھی گارنٹی مانگی جاتی ہے اور کبھی فیٹف سے نکلنے کی تصدیق، اور یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یونیورسٹیاں ریاست کو معیاری جینا مرنا مہیا نہیں کر رہیں اور ریاست یونیورسٹیوں کو لیڈرشپ کے بجائے ’’فیڈرشپ‘‘ دینے کے درپے ہے۔ نہ ایچ ای سی کا چیرمین بغیر سفارش ملتا ہے نہ کوئی شیخ الجامعہ ہم میرٹ پر لانے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔ پھر کوڑھ کی کاشت نہ ہو، تو کیا ہو؟ پھر جمہوریت کے پھولوں کے بجائے آمریت کے کانٹے نہ ہوں تو کیا ہو؟ لیڈر اسٹیٹس مین کی جگہ حرص و ہوس کا پجاری نہ ہو تو کیا ہو؟


ورنہ ماں ، جو یونیورسل ترقی کی ماں ہے، وہ جو دولت ہم قرض اور مدد کی مد میں مانگتے پھرتے ہیں،ماں نے تو گود ہی میں کان میں پھونک دیا تھا کہ علم بڑی دولت ہے!


امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پلیجرزم کے کانٹوں کے بجائے تحقیق کی نکہتیں ، عرق آمیزے اور فارمولے بکتے ہیں، سو رب بھی عقل اور محنت کو زوال نہیں دیتا، اور رب قبول بھی نعروں کو نہیں ریاستوں کو کرتا ہے۔ ان باتوں کا اظہار جب پچھلے دنوں یونیورسٹی آف پونچھ، راولا کوٹ، آزاد جموں و کشمیر میں کرنا پڑگیا تو حاضرین میں سے جواں ہمت محققین کے چہروں سے وہ پرامید کرنیں پھوٹیں جو ایکوسسٹم کیلئے ضیائی تالیف کا باعث بنتی ہیں۔ ان آفتاب و ماہتاب کے اندر کی تڑپ کی گواہی پرعزم اور متحرک قوتوں کے مالک وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر بھی دیں گے، جو لاہور میں کو تو اسلاموفوبیا کے توڑ اور اوکاڑہ میں ہوں تو تعمیرسازی کے جوڑ میں فکر مند رہتے ہیں، توقع ہے پونچھ کی فضاؤں اور راولاکوٹ کوٹ کی ہواؤں کو لیڈرشپ کی شعاعوں سے منور اور معطر کریں گے ورنہ ہم نے ایسی لیڈر شپ بھی دیکھ رکھی ہے جو اربوں روپے عمارت سازی پر لگا دیتی ہے مگر پی ایچ ڈی کرانے والی کیمسٹری لیب میں سال بھر پانی نہیں ملتا۔ کاش وہ عمارت سازی کے کمیشن کے بجائے تعمیر سازی کی انٹرپرنیورشپ سے کمیشن کی توقع رکھتے!


تحقیق اور محقق کے مابین عشق جبکہ سیاستدان اور جمہوریت کے مابین الفت کا رشتہ کہتا ہے کہ، وہ ماں کبھی نہیں مرتی جو پلنے کیلئے گود اور کھِلنے کیلئے دھرتی مہیا کرتی ہے۔ وہ قدموں تلے جنت رکھنے والی ماں ہو یا ریاست کی شکل میں وسیع اور پاکدامنی والی۔ اگر بلاولوں اور مریموں نے یہ سبق سیکھ لیا تو ہم آبِ حَیات کے کنارے کنارے آباد بصورتِ دیگر ہم بھکاری اور بیماری۔ سبسڈی پر قوم کو کھڑا کرنا معیار نہیں ویلفیئر اسٹیٹ کے طور پر پاؤں جمانا معیار ہے، اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے نہیں اسٹیٹ کی منشا پر چلانا معیار ہے۔ ماں ’جھل کدانے‘ کے طنز میں دراصل پاؤں جمانے کی بات کرتی تھی، ماں تو نام ہی ترقی کی نشاندہی کا ہے، تبھی تو ہم کبھی کشمیر تو کبھی پنجاب کی دانش گاہوں سے خیر مانگتے ہیں تو کبھی سندھ، کے پی اور بلوچستان کی درس گاہوں سے!

لمبے عرصہ تک جوان رہنا چاہتے ہیں تو توجہ دیجئے

 ٹاپ لابسٹر

جاوید چوهدری




لابسٹر (Lobster) سمندر میں ہوتے ہیں اور ہم انسان انھیں بڑی رغبت سے کھاتے ہیں، ہم اور لابسٹر دونوں مکمل طور پر مختلف مخلوق ہیں لیکن اس کے باوجود ہم دونوں میں ایک چیز کامن ہے اور وہ ہے سیروٹونین (Serotonin) اور آکٹوپامن (Octopamin) کیمیکل کا کمبی نیشن، ہم انسانوں اور لابسٹر کی ترقی اور تنزلی کا سسٹم ایک ہی ہے، ہم دونوں ایک ہی طرح زندگی میں آگے بڑھتے اور کام یاب ہوتے ہیں، یہ سسٹم کیا ہے؟


ہم اسے ایک چھوٹی سی مثال سے سمجھ سکتے ہیں، آپ مختلف قسم کے لابسٹرز کو پکڑیں اور کسی ڈرم میں پھینک دیں، لابسٹر فوری طور پر ڈرم کے مختلف کونوں میں گردش کریں گے اور پھر چند لمحوں میں ڈرم کو اچھے اور برے دو حصوں میں تقسیم کر دیں گے اور پھر اچھی جگہ کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیں گے، ان کی لڑائیاں چاراسٹیجز میں ہوں گی، سب سے پہلے بڑے سائز کا لابسٹر اس اچھی جگہ پر قابض ہو جائے گا، ڈرم میں اگر اس وقت صرف ایک لابسٹربڑا اور باقی سائز میں چھوٹے ہوں گے تو چھوٹے بڑے کے حق کو تسلیم کر لیں گے اور یوں یہ معاملہ پہلی اسٹیج پر نبٹ جائے گا لیکن اگر ڈرم میں دو یا دو سے زائد برابر سائز کے لابسٹر ہوں گے تو پھر لڑائی کا دوسرا فیز شروع ہو جائے گا، یہ آمنے سامنے کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کر دیں گے۔



 

اس فیز میں اگر کوئی ایک لابسٹر جیت گیا اور دوسرے یا دوسروں نے سائز میں برابر ہونے کے باوجود اپنی ہار مان لی تو معاملہ یہاں بھی نبٹ جائے گا اور اس ڈرم میں سب اطمینان اور شانتی کے ساتھ زندگی گزارنے لگیں گے لیکن اگر ڈرانے اور دھمکانے کے بعد بھی جنگ کا فیصلہ نہیں ہوتا تو پھر جھڑپیں شروع ہو جائیں گے، بڑے سائز کے لابسٹر ایک دوسرے کے خلاف چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کر دیں گے، یہ جنگ اگر یہاں سیٹل ہو گئی تو ٹھیک ورنہ بہترین جگہ کے حصول کی لڑائی چوتھے اور آخری فیز میں داخل ہو جائے گی، فریقین کے درمیان خوف ناک لڑائی ہو گی اور یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی ایک اپنی شکست نہیں مانتا یا کوئی ایک مر نہیں جاتا۔


اگر ایک فریق شکست مان لے تو ڈرم کی بہترین جگہ جیتنے والے کے قبضے میں چلی جائے گی اور یوں ڈرم میں امن ہو جائے گا اور جیتنے والا ڈرم کے تمام باسیوں کا سردار بن جائے گا اور ہارنے والے اس کی رعایا، یہ آخری جنگ سیٹل ہونے کے بعد ڈرم کی فضا میں ایک نئی تبدیلی آ جائے گی، کام یاب لابسٹر کا سائز مزید بڑا ہو نے لگے گا اور یہ پہلے سے زیادہ خوب صورت ہو جائے گا اور تمام فی میل لابسٹرز اس کام یاب لابسٹر کی طرف متوجہ ہو جائیں گی اور وہ مضبوط، خوب صورت اور سائز میں بڑے لابسٹر پیدا کریں گی، یہ کام یاب لابسٹرحیاتیات کی زبان میں ٹاپ لابسٹر کہلاتا ہے۔


ماہرین طویل مدت سے ریسرچ کر رہے تھے لابسٹر ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے کیوں ہیں؟ جیتنے والے لابسٹر جیت کے بعد مزید بڑے اور خوب صورت کیوں ہو جاتے ہیں اور ہارنے والوں کا سائز کیوں چھوٹا رہ جاتا ہے اور یہ بدصورت اور بے ہمت کیوں ہو جاتے ہیں؟ طویل ریسرچ کے بعد پتا چلا یہ دو کیمیکلز سیروٹونین اور آکٹوپامن کا کھیل ہے، لابسٹر جوں جوں جیتتا جاتا ہے اس کے جسم میں سیروٹونین کیمیکل کی مقدار بڑھتی اور آکٹوپامن کی کم ہوتی جاتی ہے اور یہ جب حریفوں کو مکمل طور پر شکست دے دیتا ہے تو سیروٹونین انتہائی بلندی اور آکٹوپامن انتہائی پستی کو چھو رہا ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کے سائز اور کشش دونوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔



 

یہ ٹاپ لابسٹر بن جاتا ہے جب کہ باقی لابسٹر اس سے کم تر، چھوٹے اور بدصورت ہونے لگتے ہیں اور یہ باقی زندگی اس سے لڑنے یا الجھنے کی غلطی نہیں کرتے، ہم انسانوں میں بھی ترقی اور تنزلی، بہادری اور بزدلی اور خوب صورتی اور بدصورتی کا یہی کمبی نیشن ہوتا ہے، ہم بھی انھی دونوں کیمیکلز کا کھیل ہیں، ہم جب زندگی میں کام یاب ہونے لگتے ہیں تو ہمارا سیروٹونین بھی بڑھنے لگتا ہے اور آکٹوپامن کی سطح نیچے آنے لگتی ہے، ہم جوں جوں آگے بڑھتے جاتے ہیں ہمارا سیروٹونین اوپر جاتا جاتا ہے اور آکٹوپامن نیچے سے نیچے ہوتا جاتا ہے جب کہ ناکامی کی صورت میں سیروٹونین کا لیول پست ہوتا جاتا ہے اور آکٹوپامن کی سطح بڑھتی جاتی ہے لہٰذا ناکام لوگ پست ہمتی، بے بسی، خودترسی اور مظلومیت کے گڑھے میں گرتے چلے جاتے ہیں۔


سیلف ہیلپ کی دنیا میں طویل عرصے سے یہ بحث چل رہی تھی امیر اور کام یاب آدمی کی دولت، صحت، عمر، انرجی، خوب صورتی اور چارم میں کیوں اضافہ ہو جاتا ہے اور غریب آدمی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کیوں مزید غریب، بیمار، بد صورت اور چارم لیس ہوتا جاتا ہے، لابسٹر پر ریسرچ کے بعد پتا چلا اس کے ذمے دار سیروٹونین اور آکٹوپامن کیمیکلز ہیں، ان کی شرح غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر بناتی چلی جاتی ہے، ہماری دولت اور کام یابی میں جوں ہی اضافہ ہوتا ہے ہماری شخصیت میں چارم بھی پیدا ہو جاتا ہے، ہم خوب صورت بھی ہو جاتے ہیں اورہماری عمر بھی لمبی ہو جاتی ہے جب کہ غریب آدمی میں یہ سائیکل الٹا ہوتا ہے، یہ جوں جوں ناکام ہوتا جاتا ہے اس کا آکٹوپامن لیول اوپر جاتا جاتا ہے اور یوں یہ غربت کے ساتھ ساتھ بیمار بھی ہوتا جاتا ہے، اس کا قد اور وزن بھی کم ہوتا جاتا ہے اور یہ چارم لیس بھی ہوتا چلا جاتا ہے۔



 

یہ تھیوری جوں ہی آئی یہ گتھی بھی سلجھ گئی کام یاب آدمی مزید کام یاب، امیر آدمی مزید امیر، اچھا اسپورٹس مین مزید اچھا اسپورٹس مین، مشہور لکھاری مزید مشہور لکھاری، کامیاب ایکٹر مزید کام یاب ایکٹر، کام یاب سیاست دان مزید کام یاب سیاست دان اور کام یاب سائنس دان مزید کام یاب سائنس دان کیسے بن جاتے ہیں؟ یہ بھی معلوم ہو گیا ایڈی سن نے صرف 84 سال کی زندگی میں 1093 ایجادات کیسے کر لی تھیں، دنیا کے تین ہزار بلینئر کورونا کے زمانے میں مزید امیر کیسے ہو گئے، شاہ رخ خان اورسلمان خان اسٹار سے سپر اسٹار کیسے بن گئے اور برین ٹریسی کی تخلیق اور ریسرچ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ کیسے ہوتا گیا اور دنیا کے کام یاب لوگ ستر اسی سال کی عمر میں نئی شادی کیوں اور کیسے کر لیتے ہیں اور ان پر نوجوان لڑکیاں کیوں مرنے لگتی ہیں اور ان لوگوں کی اوسط عمر نوے سال کیوں ہوتی ہے؟


یہ سب سیروٹونین کا کمال ہے، یہ کام یاب لوگوں کے جسم کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید سے مزید ککس دیتا جاتا ہے اور یہ آگے سے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں، یہ نکھرتے چلے جاتے ہیں، پاکستان میں سید بابر علی، عمران خان، طلعت حسین، مستنصر حسین تارڑ، عطاء الحق قاسمی اور پروفیسر احمد رفیق اس کی مثال ہیں، یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے زیادہ جوان، متحرک، چارم فل، بزلہ سنج اور بہادرہوتے جا رہے ہیں، طلعت حسین صحافی ہیں، یہ پانچ سال سے مشکل دور سے بھی گزر رہے ہیں لیکن یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے زیادہ فٹ، خوب صورت اور بہادر ہوتے جا رہے ہیں، پروفیسر احمد رفیق نوے سال کو ٹچ کر رہے ہیں لیکن یہ آج بھی پندرہ پندرہ گھنٹے بولتے اور درجنوں لوگوں سے روزانہ ملتے ہیں اور ہم عمران خان اور میاں شہباز شریف کی سیاسی زندگی سے بھی لاکھ اختلاف کرسکتے ہیں لیکن یہ لوگ جسمانی لحاظ سے انتہائی فٹ بھی ہیں اور یہ ایک بار پھر اپنی "سیاسی سپیس" بھی پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں، یہ کیوں اور کیسے ہو رہا ہے؟ بس دو کیمیکلز۔


ہم اب آتے ہیں، اس سوال کی طرف، کیا عام انسان اپنا سیروٹونین لیول بڑھا اورآکٹوپامن کم کر سکتا ہے؟ سو فیصد کر سکتا ہے، ہمیں پہلے یہ بات ذہن نشین کرنی ہو گی یہ دونوں کیمیکلز کام یابی سے متعلق ہیں، ہم جوں جوں کام یاب ہوتے جاتے ہیں ہمارا سیرٹونین لیول زیادہ اورآکٹوپامن کم ہوتا جاتا ہے جب کہ ہار اور شکست کی شکل میں یہ سائیکل الٹ ہو جاتا ہے لہٰذا ہمیں جان بوجھ کر، سوچ سمجھ کر اپنی کام یابیاں بڑھانا اور ناکامیاں کم کرنا ہوں گی مثلاً آپ چھوٹی چھوٹی کام یابیوں کی فہرست بنائیں، صبح جلدی اٹھنا، تیار ہو کر باہر نکلنا، کتابیں پڑھنا، واک اور ایکسرسائز، وقت کی پابندی، زیادہ سننا، کم بولنا، شکر بڑھانا اور شکوہ کم کرنا، ناراض گاہک کو راضی کرنا، دوسروں کی بدتمیزی برداشت کر لینا، صدقہ اور خیرات بڑھانا، دائیں جانب چلنا، دوسروں کو راستہ دینا، خواتین کا احترام کرنا اور لوگوں سے خوش دلی سے ملنا، یہ بظاہر چھوٹے چھوٹے کام ہیں لیکن یہ کام یابیاں ہیں۔


یہ آپ کا سیروٹونین لیول بڑھاتی ہیں اور یہ لیول بڑھتے بڑھتے آپ کو کام یاب لوگوں کی فہرست میں لے آتا ہے اور آپ جلد یا بدیر ٹاپ لابسٹر بن جاتے ہیں اور یوں آپ کے قد کاٹھ، خوب صورتی، عمر اور دولت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور آپ اگر یہ عادات نہیں اپناتے تو پھر آپ کا آکٹوپامن لیول بڑھتاچلا جائے گا اور اس کے نتیجے میں آپ کا قد، قامت، رنگ، اعتماد، صحت اور تعلقات ہر چیز دائو پر لگ جائے گی لہٰذا میرا مشورہ ہے آپ روزانہ کم از کم دس بار چھوٹی چھوٹی کام یابیاں حاصل کرتے رہا کریں، ان شاء اللہ آپ کی زندگی بدل جائے گی۔

خیرات۔ بیماریوں سے نجات

 جان ڈی راک فیلر کبھی دنیا کے امیر ترین آدمی تھے۔ دنیا کا پہلا ارب پتی۔ 25 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک کو کنٹرول کیا۔ 31 سال کی عمر میں، وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے والا بن گیا تھا۔ 38 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ میں 90 فیصد تیل کو صاف کیا۔

 50 تک، وہ ملک کا سب سے امیر آدمی تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر، ہر فیصلہ، رویہ، اور رشتہ اس کی ذاتی طاقت اور دولت پیدا کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا.


 لیکن 53 سال کی عمر میں وہ بیمار ہو گئے۔ اس کا پورا جسم درد سے لرز گیا اور اس کے سارے بال جھڑ گئے۔ مکمل اذیت میں، دنیا کا واحد ارب پتی اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی خرید سکتا تھا، لیکن وہ صرف سوپ اور کریکر ہضم کر سکتا تھا۔ ایک ساتھی نے لکھا، وہ سو نہیں سکتا تھا، مسکرا نہیں سکتا تھا اور زندگی میں کوئی بھی چیز اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس کے ذاتی، انتہائی ماہر ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا۔ وہ سال اذیت سے آہستہ آہستہ گزر گیا۔


 جب وہ موت کے قریب پہنچا تو وہ ایک صبح اس مبہم احساس کے ساتھ بیدار ہوا کہ وہ اپنی دولت میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ اگلے جہان میں لے جانے کے قابل نہیں ہے۔ وہ آدمی جو کاروباری دنیا کو کنٹرول کر سکتا تھا، اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ اس کے پاس ایک انتخاب رہ گیا تھا۔


 🌹اس نے اپنے اٹارنی، اکاؤنٹنٹ، اور مینیجرز کو بلایا اور اعلان کیا کہ وہ اپنے اثاثوں کو ہسپتالوں، تحقیق اور خیراتی کاموں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ 

 جان ڈی راک فیلر نے اپنی فاؤنڈیشن قائم کی۔ یہ نئی سمت بالآخر پینسلین کی دریافت کا باعث بنی، ملیریا، تپ دق اور خناق کا علاج۔


 🌹لیکن شاید راکفیلر کی کہانی کا سب سے حیرت انگیز حصہ یہ ہے کہ جس لمحے اس نے اپنی کمائی ہوئی تمام چیزوں کا ایک حصہ واپس دینا شروع کیا، اس کےجسم کی کیمسٹری میں اس قدر نمایاں تبدیلی آتی چلی گئی کہ وہ بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ ایسا لگتا تھا وہ 53 سال کی عمر میں ہی مر جائے گا۔ لیکن وہ 98 سال کی عمر تک زندہ رہا۔ مال خیرات کرنے سے وہ تندرست ہو گیا۔ گویا یہ خیرات نام کی چیز بھی ایک طریق علاج ہے۔ اسے بھی آزما کر دیکھ لیجئے .


 اپنی موت سے پہلے، اس نے اپنی ڈائری میں لکھا، 

*"سپریم انرجی نے مجھے سکھایا، کہ سب کچھ اس کا ہے، اور میں اس کی خواہشات کی تعمیل کرنے کے لیے صرف ایک چینل ہوں۔* _

میری زندگی ایک طویل، خوشگوار چھٹی رہی؛ کام اور کھیل سے بھرپور۔

میں نے پریشانی کو راستے میں چھوڑ دیا اب میں تھا اور میرا خدا تھا_

 _میرے لیے ہر دن اچھا تھا۔"_

صالح دعا۔قبولیت یقینی

 دعا اگر صالح دعا ہوتو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ لیکن بڑی بڑی دعائیں ہمیشہ تاخیر کے ساتھ قبول ہوتی ہیں۔ اس کی ایک مثال حضرت ابراہیم کی دعا ہے۔ حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے وقت ایک آخری پیغمبر کے ظہور کی دعا کی تھی(البقرۃ، 2:129)۔یہ دعا قبول ہوئی۔ لیکن اس پیغمبر کا ظہور عملاً دعا کے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد پیش آیا۔تاریخ کے بڑے بڑے واقعات ہمیشہ اسی طرح لمبی مدت کے بعد ظہور میں آتے ہیں۔ بڑی بڑی دعاؤں کے لیے پوری تاریخ کو مینج کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، حالات کو اس کے مطابق بنانا پڑتا ہے۔ اس لیے قانونِ قدرت کےمطابق، کوئی بڑی دعاکبھی اس طرح قبول نہیں ہوتی کہ دعاکرنے والے نے دعا کیا۔ اور اس کے فوراً بعد اس کی قبولیت بھی سامنے آگئی۔

دعا کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُونَ (2:186)۔ یعنی اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، پس ان کو چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر یقین کریں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

اس آیت میں بتایا گیاہے کہ خدا بندے کے قریب ہے۔ اور وہ بندے کی دعا کا جواب دیتا ہے۔ لیکن جواب کی صورت کیا ہوتی ہے، اس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں موجود نہیں۔ اجیب دعْوة الداع اذا دعان کے فورا بعد جو الفاظ آئے ہیں، وہ یہ ہیں:فلیستجیبو لی ولیؤ منوا بی لعلھم یرشدون۔یعنی ان کو چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر یقین کریں، اسی میں ان کی فلاح ہے۔

یہاں دعا کے بعد جواب دعا کا ذکر نہیں۔ یہ قرآن کا ایک خاص اسلوب ہے کہ اس میں کسی بات کے ایک پہلو کا ذکر ایک مقام پر ہوتا ہے، اور اُس کے دوسرے پہلو کا ذکر دوسرے مقام پر ۔ مثلاً قرآن میں قصہ آدم کے تحت یہ بتایا گیا ہے کہ آدم نے غلطی کرنے کے بعد جب توبہ کی، تو ان کی توبہ قبول ہوئی، اور دعا کے الفاظ بھی ان کو تلقین کیے گئے۔ مگر یہ دونوں بات ایک جگہ موجود نہیں۔ مثلاً سورہ البقرۃ آیت37 میں توبہ کا ذکر ہے۔ لیکن جہاں تک الفاظِ دعا کا تعلق ہے، وہ دوسرے مقام پر سورہ الاعراف آیت23 میں بتائے گیےہیں۔

یہی اسلوب قرآن کی مذکورہ آیت میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب ریح (یوسف،12:94) کی صورت میں ملتا ہے۔ ریح کے لفظی معنی خوشبو (fragrance) کے ہیں۔ یہاں ریح کا لفظ سادہ طور پر مہک کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اچھی خبر (good news)ہے۔ یہ حضرت یعقوب کو انسپریشن (inspiration)کی صورت میں آئی تھی۔ یعنی ان کو یہ انسپریشن آتا تھا کہ خدا ان کی دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا، بلکہ یوسف کو کسی اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔ یوسف کے بھائیوں نے یوسف کواندھے کنوئیں میں ڈال دیا تھا، لیکن اللہ نے ان کو مخصوص انتظام کے تحت مصر کے تخت پر پہنچادیا۔

دعا کی یہ قبولیت ہر انسان کے لیے مقدر ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کی ایک شرط ہے۔ وہ شرط قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: إِنَّہُ مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّہَ لَا یُضِیعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ (12:90)۔ یعنی جو شخص ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی یہ خصوصی نعمت اس انسان کو ملتی ہے، جو احسان کے درجے میں اس کا استحقاق ثابت کرے۔ یعنی ہمیشہ اللہ سے پر امید رہے، اور ہر حال میں وہ صابرانہ انتظار کی روش پر قائم رہے۔

(مطالعہ قرآن)

بیٹوں کی کامیاب اور بابرکت زندگی کے رہنما اصول

 *بیٹوں کی کامیاب اور بابرکت زندگی کے رہنما اصول .*



بیٹوں کی تربیت ایک مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے۔ اکثر والدین اولاد کی سرکشی کی وجہ سے شدید دکھ اور تکلیف میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔


اس سلسلے میں *ابن القیم الجوزي رحمہ اللہ* کہتے ہیں:

*"بے شک گناہوں میں سے کچھ گناہ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کفارہ انسان کو اولاد کی طرف سے ملنے والے غم کے سوا کچھ نہیں ہوتا! تو خوشخبری ہے اس کے لیے جو اپنے بیٹوں کی تربیت کا اہتمام اس طریقے پر کرتا ہے جو اللہ سبحانہ و تعالی کی پسند اور رضا کا ہے. اور خوشخبری ہے اس کے لیے جس کے لیے اولاد کی تربیت میں تکلیف اٹھانا اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ لہذا اگر تم اپنے بیٹوں میں کوئی ایسی بات دیکھو جو تمہیں ان کی تربیت کے معاملہ میں تھکا دیتی ہو تو اپنے رب سے اپنے گناہوں بخشش طلب کرو۔"*



*مقاتل بن سلیمان رحمہ اللہ، منصور عباسی خلیفہ* کے پاس آئے. جس دن ان کی خلافت پر بیعت کی گئی تو منصور نے ان سے کہا:

"اے مقاتل! مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔"


تو مقاتل کہنے لگے:

"کیا میں تمہیں (اس میں سے) نصیحت کروں جو میں نے دیکھا یا (اس میں سے) جو میں نے سنا؟"


تو منصور نے کہا:

"اس میں سے جو آپ نے دیکھا ہے۔"


تو مقاتل نے کہا:

"سنو اے امیر المومنین! عمر بن عبد العزیز کے گیارہ بیٹے تھے اور وہ صرف اٹھارہ دینار چھوڑ کر فوت ہوئے جن میں سے پانچ دینار کا وہ کفن دیے گئے اور چار دینار سے ان کے لیے قبر خریدی گئی اور باقی دینار ان کے بیٹوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ اور ھشام بن عبد الملک کے ہاں بھی گیارہ لڑکے تھے جب اس کا انتقال ہوا تو اس نے ترکہ میں ہر لڑکے کے حصے میں دس لاکھ دینار چھوڑے۔ اللہ کی قسم! اے امیر المومنین میں نے ایک ہی دن عمر بن عبد العزیز کے ایک بیٹے کو دیکھا وہ اللہ کی راہ میں سو گھوڑے صدقہ کر رہا تھا اور ھشام کے بیٹے کو دیکھا وہ بازاروں میں بھیک مانگ رہا تھا!!!"



جب عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ بستر مرگ پر تھے تو لوگوں نے ان سے پوچھا:

"اے عمر! تم اپنے بیٹوں کے لیے کیا چھوڑے جارہے ہو؟


انہوں نے فرمایا:

*"میں نے ان کے لیے اللہ سبحانہ و تعالی کا تقوی چھوڑا ہے. پس اگر وہ نیکوکار ہوئے تو اللہ سبحانہ و تعالی نیکوکاروں کا دوست ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ کچھ اور ہوئے تو میں ان کے لیے وہ مال ہر گز نہ چھوڑوں گا جو وہ اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں ان کا مددگار بنے۔"*



یہ بہت قابل غور بات ہے کہ عموما لوگ مال جمع کرنے کے لیے سخت محنت اور مشقت کرتے ہیں اور اپنی اولاد کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی موت کے بعد ان کی اولاد کے پاس مال ہوگا تو ہی وہ خوشحال رہیں گے اور امن میں ہوں گے. جبکہ وہ اس سے زیادہ بڑے امان، جو کہ اللہ کا تقوی ہے، اس سے غافل رہتے ہیں اور اپنی اولاد کو تقوی کا توشہ نہیں دیتے. 



ایک آدمی جب اپنے کسی بیٹے میں اخلاقی زوال دیکھتا تو صدقہ کرتا اور لوگوں کو کھانا کھلاتا اور اس آیت کی تلاوت کرتا تھا:


*خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا.*

"ان سے ان کے مالوں میں سے صدقہ لے کر ان کو پاک کیجئے اور اس سے ان کا تزکیہ کیجئے۔"

اور دعا کرتا کہ

*"اے اللہ! میرا یہ صدقہ کرنا اس لیے ہے کہ میرے بیٹے کا اخلاقی تزکیہ ہو جائے کیونکہ اس کا یہ بگاڑ مجھ پر اس کی جسمانی بیماری سے زیادہ بھاری ہے۔"*



اسی طرح ایک اور شخص کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ غربت کی زندگی گزارنے کی وجہ سے جب وہ صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ پاتا اور اس کا بیٹا اس کو ستاتا تو وہ رات کو قیام اللیل میں سورة البقرة پڑھ کر دعا کرتا اور یوں کہتا کہ:

*"اے اللہ! یہ میرا صدقہ ہے، تو مجھ سے قبول کر لے اور اس کی وجہ سے میرے بیٹے کی اصلاح فرما دے۔"*



 اپنے بیٹوں کی اصلاح کی نیت سے اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف عبادت کے ذریعے رجوع کریں۔ اگر انہوں نے تمہاری کوششوں کو مغلوب کر بھی لیا تو وہ تمہاری نیتوں کو ہرگز مغلوب کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔


✨ *رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا.*


"اے پروردگار! ہمیں ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقین کا امام بنا۔"

آمین

اتوار، 10 جولائی، 2022

 ایک کنوارے صحابی رضی اللہ عنہ کے نکاح کا معاملہ اور قربانی کے جانور کی رقم

 ایک کنوارے صحابی رضی اللہ عنہ کے نکاح کا معاملہ اور قربانی کے جانور کی رقم


صحیح بخاری میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ منقول ھے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے. ایک عورت آئی اور اس نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد کر دیا کہ اس کی جہاں چاہیں شادی کر دیں. ایک غریب کنوارے صحابی وہاں موجود تھے. انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! اس کی شادی آپ مجھ سے کر دیجیئے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : "تمھارے پاس اسے حق مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟ " اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ھے.


آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جاؤ اگر لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے تو لے آنا ھم وہی حق مہر بنا کر اس کا نکاح تجھ سے کر دیں گے. وہ صحابی اپنے گھر گیا مگر غربت کا عالم یہ تھا کہ گھر سے لوھے کی ایک انگوٹھی بھی نہ ملی. اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! میرے پاس ایک چادر ھے. اس میں سے آدھی میں حق مہر میں اسے دے دیتا ھوں اور آدھی خود رکھ لیتا ھوں. 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :"وہ آدھی نہ آپ کے کسی کام آئے گی اور نہ اس کے کام آئے گی." 

وہ خاموشی سے ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا. تھوڑی دیر بیٹھا رہا مگر اٹھ کر جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بلایا اور پوچھا:"تمھیں قرآن میں سے کچھ یاد ھے؟" اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں.

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ان سورتوں کے عوض تمھارا نکاح اس سے کر دیا( یعنی وہ سورتیں تم اسے یاد کروا دینا )"

( صحیح البخاری :5121)


اس حدیث سے اندازہ لگایا جا سکتا ھے کہ دور نبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت کا کیا عالم تھا. ایک صحابی کے پاس حق مہر دینے کے لیے جو کہ فرض تھا، ایک لوھے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی چاندی اور سونا تو دور رہا.

کتب احادیث میں ایسی غربت کے بیشمار واقعات ملتے ہیں.


▪️ اب آئیئے اصل مسئلہ کی طرف 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں دس سال گزارے اور ہر سال آپ نے قربانی کی حتی کہ ایک سال سو اونٹ نحر کیئے. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دس سالوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ اس سال ھم قربانیاں نہیں کریں گے بلکہ قربانی کا پیسہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی پر خرچ کریں گے.

اگر قربانی کے جانور ذبح کرنے کی بجائے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی پر پیسہ خرچ کرنا قربانی سے افضل ھوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ضرور اس کا حکم دیتے مگر آپ نے تو شادی کی استطاعت نہ رکھنے والوں سے فرمایا :


"اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ھے وہ شادی کر لے اور جو استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، اس لیئے کہ یہ روزہ اس کے لیئے( گناہ سے بچنے کی )ڈھال ثابت ھو گا."

( صحیح البخاری :5066)


جوں جوں قربانی کے ایام قریب آئیں گے، غریبوں کے بہت سے خیرخواہ ( لبرل ) اپنی بلوں سے نکلنا شروع ھو جائیں گے. ان کا مقصد غریبوں کی حمایت نہیں بلکہ شعائر اسلام کی تحقیر ھوتا ھے. ان کے دلوں میں شعائر اسلام کا بغض اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھرا ھوتا ھے.


قربانی ایک عظیم عمل ھے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ھے. شکوک و شبہات سے بچیئے اور اللہ کے دیئے ھوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں جانور ذبح کیجیئے. اسی میں خیر اور بھلائی ھے.


واٹس آپ سے کاپی

ابو عبداللہ

یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ سے متعلق تحریریں

 🏕️۔⛰️ *یوم عرفہ اپنا اپنا*⛰️۔🏕️ 

.


✍🏻ایک بنیادی بات یاد رکھیے۔۔ 

یوم عرفہ سے مراد نو ذوالحجہ ہے ، اسکا حاجیوں کے وقوف عرفات سے کوئی تعلق نہیں ...کیونکہ وقوفِ عرفات زوال سے مغرب تک ہے اور روزہ سحری سے مغرب تک - اور حجاج کے وقوفِ عرفات سے اسکے تعلق کی کوئی واضح دلیل نہیں -  

  جب حاجی وقوف کر رہے ہوتے ہیں تب آسٹریلیا سے پرے "جزائر ہوائی" والے سونے کے لیے بستر پر جا چکے ہوتے ہیں یعنی اگر وہ سعودی چاند کے "مقلد" بھی بن جائیں تو روزہ پہلے ہی رکھ کے کھول چکے ہوں گے ، 

اب کیا کریں گے؟

 اور جب حاجی عرفات سے نکل کے سو کر خراٹے لے رہے ہوں گے تب تک چلی ، لاطینی امریکہ والے ابھی سو کر اٹھے بھی نہیں ہوتے۔۔۔ 

ان بے چاروں کا کیا ہو گا ؟

روزہ تو نکل گیا ، روزہ کیا یہاں تو حاجی صاحب بھی نکل گئے ، سوال تو ہے نا ؟

انکے تو دو سال کے گناہ ان کے کھاتے میں ہی رہ گئے اس لیے کہ روزہ کے وقت ان کے ہاں تھی ہی رات - اب اگر اگلے دن رکھتے ہیں۔ تو وقوفِ عرفات سے کیا تعلق جوڑیں گے ؟

ایک اور سوال بھی ہے کہ اگر اس روزے کا حجاج کے وقوف سے تعلق ہوتا تو پہلے ۔۔۔۔تیرہ سو سال امت کے روزے کیا ہوئے ؟

ان کا تو وقوف کا دن کبھی ایک تھا ہی نہیں ،

 ❓تب کون سا ٹی وی، نیٹ اور ریڈیو ہوتا تھا ؟

تو کیا کہا جا سکتا ہے کہ 


ان کے روزے چونکہ وقوف عرفہ کے ساتھ نہ تھے،تو کیا وہ بے کار ہوئے؟


اب رہا چاند تو اس ضمن میں صحیح بخاری کی حدیث ہے :

صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ - صحیح بخاری ، کتاب الصوم

چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے 30 دن پورے کر لو۔

یہ ایسی حدیث ہے کہ جس سے تمام اشکالات ختم ہو جاتے ہیں لیکن بعض احباب پھر بھی موجودہ دور کے ذرائع رسل و مواصلات کو لے کے بیٹھے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی :

"موجودہ تیز تر وسائلِ نقل و حرکت اور ذرائع ابلاغ کے پیشِ نظر ، حجاجِ کرام کے میدانِ عرفات میں ہونے کی خبر لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر میں پہنچ رہی ہوتی ہے ، لہذا یومِ عرفہ کا روزہ بھی اسی دن رکھا جائے جب حجاج کرام ، عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔"

پہلا اعتراض تو یہی ہے کہ حاجیوں کے وقوف سے یوم عرفہ کے روزے کا تعلق ثابت کیا جائے 

دوسرا اعتراض اس موقف پر یہ ہے کہ 

"لیبیا ، تیونس اور مراکش چند ممالک ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10۔ذوالحجہ کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں یومِ عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔"

اب اس مسلے کا ان احباب کے نزدیک کیا حل ہے کہ جو سعودیہ کے وقوف عرفات کو تمام دنیا کے لیے یوم عرفہ قرار دیتے ہیں ؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول حدیث عائشہ کے مطابق

 " یکم سے نو ذوالحجہ تک روزے رکھتے تھے " 

سو سنت نبوی سے الگ سے روزہ تو آپ کو ملے گا نہیں 

- *سو الجھائیے مت اور الجھیے بھی مت* ...آرام سے پاکستان کے چاند کے مطابق اللہ تعالی سے رحمت کی امید رکھتے ہوئے روزہ رکھیے ۔


⛰️۔🏕️ *یومِ عرفہ اپنا اپنا*🏕️۔⛰️


🍃🌹🍃

يوم العرفة 


آپ نے عرفہ کے دن اور اس کی فضیلت کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا ہوگا یہاں تک کہ اب وہ ایسی حقیقت بن گیا ہوگا جو بار بار دہرائی جاتی ہے۔۔


آپ خود سے پوچھئے⁉️  


▪️کیا میں نے اچھی طرح سے سمجھا اور غور و فکر کیا کہ دراصل عرفہ ہے کیا؟


▪️کیا اس عظیم دن کی عظمت کو سمجھ پائی؟


▪️کیا میں ان دن کو بھی عام دنوں کی طرح گزار دوں گی؟


مجھے یہ بتانے دیجئے کہ آپ کا دل اس قدر زور زور سے کیوں دھڑک رہا ہے اس خیال سے ہی کہ آپ کو اس عظیم دن کو دیکھنے کی نعمت سے نوازا گیا ہے ۔


1️⃣ یہ تمام دنوں میں سب سے بہترین دس دن ہیں جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔


2️⃣ اس دن اللہ تعالی نے اپنے دین کو مکمل فرما دیا اور اپنی نعمت کو لوگوں پر تمام فرما دی اور اسلام کو ہمارے لئے دین چن لیا۔


3️⃣ عرفہ کے دن اللہ تعالی سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرماتا ہے۔ 


4️⃣ یہ سال کا واحد دن ہے جب اللہ تعالی دنیاوی آسمان پر نازل ہوتا ہے۔ ( دن کے وقت)


5️⃣ اس دن اللہ تعالی اپنے بندوں کے اوپر فخر فرماتا ہے فرشتوں کے سامنے۔


سبحان اللہ۔ کوئی بد بخت انسان ہی ہوگا جو اس دن کو ضائع کردے گا اور عام دنوں کی طرح گزر جانے دے گا۔


⭕ وہ کون سے بہترین اعمال ہیں جو میں اس دن کر سکتی ہوں؟


*دعا۔ دعا۔ دعا*


 جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- 

*بہترین دعا وہ ہے جو عرفہ کے دن کی جائے*


⭕ یہ خاص وقت کب شروع ہوتا ہے؟


عشية عرفة


جمھور علماء کے مطابق یہ وقت ظہرسے مغرب تک کا ہے یا عصر سے تھوڑا پہلے سے لے کر مغرب تک۔


*یہ سارا وقت دعا کا ہے*۔ جی ہاں۔


آپ پر گھبراہٹ طاری ہوئی کیا؟ 

میں دعا شروع کیسے کروں!

کون سی پہلے مانگوں!

ساری کیسے مانگوں!


⭕ یہاں 7 آسان پوائنٹس ہیں دعا کے حوالے سے۔


1️⃣ شروعات اللہ تعالی کی تحمید اور تسبیح سے کیجئے۔

اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے ذریعے سے اس کی تعریف کیجئے یہاں تک کہ آپ کا دل اس کی عظمت و محبت سے بھر جائے۔ اس کے لئے قرآنی اور مسنون دعاوں کا سہارا لیجئے۔


2️⃣ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجئے۔

جلدی نہ مچائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تھک کاوشوں اور تکلیفوں کے بارے میں سوچئے جو انہوں نے اٹھائی دین ہم تک پہنچانے کے لئے۔


3️⃣ اللہ تعالی کا شکر ادا کیجئے اس کی تمام نعمتوں پر جو اس نے آپ پر کی ہیں اور اس کی پناہ مانگئے ان نعمتوں کے چھن جانے سے۔


4️⃣ کثرت سے توبہ استغفار کیجئے۔اپنے گناہوں کا اعتراف کیجئے انتہائی عاجزی کے ساتھ اور گڑگڑائیے رحمان کے سامنے۔

جلدی نہ مچائیں ۔ رو رو کر بخشش مانگئے۔


5️⃣ اپنی ذاتی دعائیں مانگئے۔ وہ سب کچھ جو آپ کے دین اور دنیا کے لئے بہترین ہو۔صحت۔ دولت۔ شادی۔ ہدایت۔ کامیابی۔ سب کچھ۔ اس یقین کے ساتھ کہ اللہ سن رہا ہے اور وہ جانتا ہے اور ضرور میری دعائیں قبول فرمائے گا۔


6️⃣ *البرزخ* برزخی ذندگی!! دعا کیجئے حسن الخاتمہ کی۔ مرتے وقت۔ مرنے کے بعد۔ قبر میں ۔ قیامت کے دن۔ پل صراط پر۔ جنت کا حصول اور جہنم سے پناہ ۔ اللہ سے حسن الخاتمہ اور قبر کے سوالوں کے وقت ثابت قدمی مانگئے۔


7️⃣ اختتام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجئے اور اللہ تعالی سے قیامت کے دن ان کی شفاعت اور حوض کوثر سے پانی پینا نصیب ہو کی دعا مانگئے۔


🛑 اچھا خاصا وقت صرف کیجئے ہر دعا میں ۔ اللہ تعالی کو اپنی انتہائی عاجزی اور کمزوری دیکھائے اور گڑگڑائیے۔


🛑 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

*خير الدعا دعاء يوم عرفة، و خير ما قلت أنا والنبيون من قبلي لا اله الا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير* 


بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور بہترین دعا جو مجھے بتائی گئی اور جو نبی مجھ سے پہلے تھے:- نہیں کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اسی کے لئے بادشاہت ہے اور سب تعریفیں صرف اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔


تو اپنی دعاوںکے درمیان وقتا فوقتا یہ ضرور پڑھیں 


*لا اله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير* 


🛑 اپنی دعاوں میں اپنے والدین اور ان کے والدین، اپنی اولاد اور ان کی اولاد اور تمام امت مسلمہ کو یاد رکھئے۔


میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو اس دن کی زیادہ سے زیادہ خیر سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کو بہترین دعائیں مانگنے والا بنائے اور آپ کی دعاوں کو قبول فرمائے، آپ کو ہدایت دے اور دنیا و آخرت میں آپ کے درجات بلند فرمائے۔


اللهم آمين يارب العالمين


9⃣ *ذوالحجہ* یعنی *یوم عرفہ کا دن کیسے گزاریں❓*

♾️♾️☘️🕋☘️♾️♾️




❓ *اس دن کو کیسے گزارا جائے؟* 


👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻



❌یہ دن گھر کو صاف ستھرا کرنے کا نہیں، 



❌بازاروں میں گھومنے پھرنے اور شاپنگ کی نذر کرنے کا نہیں 



❌اور نہ ہی آرام و نیند کی نذر کرنے کا ہے   


👈🏻اس *دن کو اللہ تعالی نے عظیم مقام* عطا فرمایا ہے۔



👈🏻 *یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالی اھل عرفہ کے بارے میں فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں*۔


👈🏻یہ ایسا مبارک دن ہے جو جہنم سے لوگوں کو آزادی کا پروانہ دیتا ہے۔ 


👈🏻 *یہ دن اطاعت رب اور اس کی بھرپور عبادت کا ہے۔*


📢 *دعاؤں میں بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے*

لھذا اس دن کو غنیمت جانیں اور جتنی بھی خیرو بھلائی اس روز کر سکتے ہیں *اسے کر ڈالیں۔*


    📋 *کرنے کا کام* 

 


📢 *نو ذوالحجہ* کے لیے خود کو تیار کریں  


📝شیڈول بنائیں ۔ بلکہ اس شیڈول میں اپنے حلقہٴ احباب کو بھی شامل کریں ۔ 

 کیونکہ یہ *دنیا کے بہترین اور افضل ایام میں سے افضل ترین دن ہے*   

👈🏻جو سال میں ایک مرتبہ آتا ہے:-


1⃣۔ رات جلدی سوئیں تاکہ اللہ تعالی کی عبادت واطاعت میں کچھ ہمت وطاقت محسوس ہو۔


2⃣۔ فجر سے پہلے اٹھ جائیے تاکہ آپ اس دن کے روزے کی نیت کرکے سحری کھائیں۔ 


👈🏻یہ روزہ ہمارے گذشتہ اور آنے والے سال کے گناہوں کو معاف کرانے کا سبب بنے گا۔

ان شاء اللہ تعالیٰ 



3⃣۔ حسب استطاعت شوق سےدن کے نوافل ادا کریں 


4⃣۔ فجر سے قبل کا وقت استغفار کرنے میں لگا دیجئے۔تاکہ ہمارا شمار سحری کے وقت استغفار کرنے والوں میں ہو جائے۔ 


5⃣۔ اذان فجر سے کم از کم پانچ منٹ قبل تیار ہو جائیے۔ بہترین وضو کریں  

 پھر وضوکے بعد کی دعا پڑھئے۔ 


6⃣۔ فجر کی نماز باجماعت پڑھیں اور اپنی جگہ طلوع صبح تک بیٹھ کر ذکر واذکا ر اور تلاوت قرآن کریم میں گزارئیں ۔


 7⃣سلام کے بعد تکبیرات پڑھنا بھی نہ بھولیں 


8⃣ نماز اشرق کو بھی وہیں ادا کیجئے تاکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کئے گئے حج وعمرہ کا ثواب پاسکیں۔ 

اس نماز کو بالکل نہ بھولئے۔


👈🏻 اب آپ چاہیں تو کچھ منٹ سو جائیں اور نیت یہ ہو کہ اللہ تعالی کی مزید عبادت کے لئے تازہ دم ہو نا ہے ۔ 

👈🏻اٹھ کر چار رکعت نماز چاشت ادا کریں 



🛣اور پھر *قرب الہٰی* کے مزید راستے تلاش کریں۔ 


مثلا صدقہ کرنا، بیمار کی عیادت یا رشتہ داروں کا خیال وغیرہ۔



👈🏻 *تکبیر، ذکر، تلاوت،* 


اور *لاإلہ إلا للہ وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئ قدیر۔* خوب پڑھیں۔



👈🏻۔مرد حضرات نماز ظہر با جماعت اداکریں ،اور تکبیر و تسبیح و تحمید کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن کریم بھی کیجئے۔ 


👈🏻 *قیلولہ کریں* 


👈🏻۔ نماز عصر ادا کیجئے اورتلاوت قرآن ہر نماز کے بعد لازمی کریں، 


👈🏻تکبیرات پڑھیں شام کے اذکار اور تسبیحات بھی کیجئے۔



📢 *کثرت سے دعائیں کریں* 


اللہ تعالیٰ روزہ دار کی دعائیں قبول کرتا ہے یہ ذہن میں رکھتے ہوئے خوب عاجزی سے جہنم سے نجات مانگیں 



📢 اپنے پیاروں اور امت مسلمہ کو دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں


👈🏻 *مزید جو بھی آپ مانگنا چاہیں،،،،، مانگیں*


 اللہ تعالیٰ نوازیں گے 


*ان شاء اللہ تعالیٰ*  



🔊📋🔊📋🔊📋📋

بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچوں کو

 *A piece of poetry for the students in Examination Hall.*



Bay-nigah aankho`N se dhaikhte hien parcho`N ko...

be-khiyaal ankho`N se..

un-bunay se lafzo`N per... ungliya`N ghumate hien.



ya sawal-namay ko... dhaikhte hee jate hien.


her taraf kan-akhiyo`N se... bach-bacha k takte hien.



*dosro`N k parcho`N ko... rah-numa samajhte hien.*


shayad is tarah koii raasta hii mil jaye...!


be-nisha`N khwabo`N ka kuch pata hii mil jaye..!


mujh ko dekhte hien tu..

youn juwab-copy per hashiye lagatay hien..

jaise un ko parchay k sub jawaab aatay hien..!



is tarah k manzar Me..

imtihan-gaho`N mien.. daikhta hii rehta hoon..!


naQal kerne walon k.. nit-naye tareeko`N se..

aap lutf leta tha, dosto`N se kehta tha..!


kis taraf se janay ye...

aaj dil k aangun mien... ik khiyaal aaya hai...



*sainkaro`N sawalo`N sa ik sawal aaya hai*


waQt ki aadalat mien... zindagii ki soorat mien...

ye jo mere haatho`N mien...

 ik sawal-nama haii..


kis ne banaya hai.. ?

kis liye banaya hai?


kuch samajh mein aaya hai?



*Zindagii k parchay k..

sub sawal lazim hain...!


Sub sawal mushkil hien!



be-nigah ankho`N se daikhta hoon parche ko..


un-bunay se lafzo`N per ungliya`N ghumata hoon.


hashiye lagata hoon..


daaire banata hoon..


ye sawal-namay ko

daikhta he jata hoon ..!


*(Amjad Islam Amjad)*