جمعہ، 2 فروری، 2018

بھل گئے راہ پنجابی ماسٹر

نظم
       پنجابی ماسٹر
ایہہ ماسٹر نہیں رہنے چائیدے
قوم دے مگروں لہنے چائیدے
جہڑے حق وی لے نہیں سکدے 
جیون دا کوئی حق نہیں رکھدے
اہناں قوم بنانی کی اے
ویھلے رہن تے سب دا جی اے
اپنی بربادی تے ہسدے
اپنا۔ آپ تماشہ تکدے
کاں وی رولا پا لیندے نیں
کٹھ تماشہ لا لیندے نیں
ماسٹر کٹھے ہو نہیں سکدے
اکو تھاں کھلو نہیں سکدے
اہناں دی اوہ مر گئی لگدائے
قسمت سب دی ہر گئی لگدائے
اپنے جئی نہ۔ قوم بناو
نہ نسلاں۔ دا۔ بھٹہ بھاو
گھگو بن کے بیٹھے رہنا
نہ ہلناں نہ مونھو ں کہنا
ڈر ڈر ہویا پتا پانی
مک جانی ایں رام کہانی
جلی۔ بستر گول تہاڈا
ہن وجناں ایں ڈھول تہاڈا
ماسٹر بیٹھے میٹ کے مٹھیاں
سانوں کی فر کھاون جتیاں
واہ رے واہ پنجابی ماسٹر
بھل گئے راہ پنجابی ماسٹر
ظالم اگے واہ نہ چلے
جوئیہ سب نوں وجن کھلے

یوم جمعہ کی فضیلت اور سنتیں

الســــــــــــــلام وعـــلیکم ان گنت درود اور سلام نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر آپ کی آل و اولاد پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنوں میں سےافضل دن جمعہ کا دن ھے پس جمعہ کے روز مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھا کرو         (ابو داؤد)
جمعہ کے دن ان اعمال کے کرنے کا بے حد ثواب ھے 1بدن کی صفائی کرنا 2غسل کرنا 
3پاک صاف کپڑے پہننا
4 تیل لگانا 
5عطر خو شبو لگانا 6مسجد میں جلدی جانا 7نمازیوں کی صفوں کے اوپر سے نہ پھلانگنا جہاں جگہ مل جائے بیٹھ جانا 8 خاموشی سے اور دھیان سے خطبہ سننا
9 سورہ کہف پڑھنا ان اعمال کا بہت ثواب ھے  
رب کریم ھمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ھوئے طریقوں پر چلنے کی توفیق عطا فرما دے آمین ثم آمین

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی۔

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی۔

دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی۔

اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا۔

میں بھی خاموش رہا اس نے بھی پرسش نہیں کی۔

جس قدر اس سے تعلق تھا چلے جاتا ہے۔ 

اس کا کیا رنج ہو جس کی کبھی خواہش نہیں کی۔

یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے۔

اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی۔

تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ دیکھوں -(نعت)

ﷺ

تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ دیکھوں -
امام الانبیاء دیکھوں، حبیب کبریا دیکھوں -

وہ جن کے دم قدم سے صبح نے بھی روشنی پائی -
منور کر دیا جس نے، فضا وہ رہنما دیکھوں -

وہ جن کی برکتوں سے ابر و باراں بستے عالم میں -
تمنا قلب مضطر کی وہ درِّ بے بہا دیکھوں -

قدم باہر مدینہ سے تصور میں مدینہ ہے -
الہی یا الہی عظمتوں کی انتہا دیکھوں -

یہ دنیا بے ثبات و بے وفا و غم کا گہوارا -
یہ ہے مطلوب: دارِ بے وفائی میں وفا دیکھوں -

وہ مبدأ خلق عالم کا، درود ان پر سلام ان پر -
میرے مولی یہ موقع دیں کہ ختم الانبیاء دیکھوں -

کبھی ہو حسن کی محفل، کبھی ہو شوق کا منظر -
کبھی آنسو کی زنجیروں میں عاشق کی صدا دیکھوں -

رَسُولٌ قَاسُم الْخيْرَاتِ فِی الدُّنْيَا وَ فِی الْعُقْبی -
شفیق از نفس مادرِ ما، نبیِّ مجتبیٰ دیکھوں -

در جنت پہ حاضر ہوں، رسول پاک کے ہم راہ -
شفاعت کا یہ منظر یا خدایا میں رضا دیکھوں -

تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ دیکھوں -
امام الانبیاء دیکھوں، حبیبِ کبریا دیکھوں -

اپنی شرطوں پہ جیئے

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی ـ
اپنی شرطوں پہ جیئے ،اس سے گزارش نہیں کی ـ

جانے کیوں بجھنے لگے اولِ شب سارے چراغ ـ
آندھیوں نے بھی اگرچہ کوئی سازش نہیں کی ـ

اب کہ ہم نے بھی دیا ترکِ تعلق کا جواب ـ
ہونٹ خاموش رہے، آنکھ نے بارش نہیں کی ـ

اس نے ظاہر نہ کیا اپنا پشیماں ہونا ـ
ہم بھی انجان رہے، ہم نے بھی پرسش نہیں کی ـ

ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ ـ
تو جو بچھڑا ہے تو کیا وقت نے گردش نہیں کی ؟