جمعرات، 1 مارچ، 2018

دینی مدارس کی امداد

.۔
( احباب لازمی ملاحظہ فرمائیں)
مدارس کی سرکاری امداد پہ دوست کہ تبصرہ کا مثبت جواب۔۔۔۔۔۔۔
منافقت اور طالبانایزیشن کا لائسنس دینے والے دوست سے عرض ہے کہ آپ کی لبرل ازم کی فیکٹریوں سے نکلنے والے گند نے ہی دنیا کو اس دہانے پہ لا کھڑا کیا ہے۔۔مغربی آقاؤں کو خوش کرنےکے لئےہماری تعلیم سے مذہب اور اخلاقیات کو مکھی کی طرح نکال کہ نام نہاد modernism اور انگریزی تعلیم کو پروان چڑھایا اور پھر ہم قرآن سے نکل کر دوسری اقوام کے ذہنی غلام بن کر frustration کاشکار ہوتے گۓ۔۔۔۔ اور قرآن کی تعلیم کو مدارس تک محدود کر کہ ملائیت کو فروغ دیا۔۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ایک امام اور مٶذن کی سرکاری تنخواہ 3 ہزار اور یونیورسٹی کے پروفیسر کی تنخواہ 3 لاکھ ہے۔پھر ہم اپنے ہی کمزور بچوں کو مدارس میں بھیجتے رہے جہاں بدقسمتی سے ریاستی سرپرستی کی بجاۓ ہر ملا کی اپنی سوچ پروان چڑھتی رہی۔۔اور پھر انھی بچوں کو ہم نے جہاد کے نام پہ افغان جنگ میں جھونک کر ظلم کے پہاڑ گراۓ۔۔۔پھر جب دل بھر گیا تو ہم نے ان پہ بموں سے بوچھاڑ کر کہ انکی نسلوں کو دہشتی گردی کا لیبل لگا کہ چھوڑ دیا۔۔اور آج ہم ٹائم پاس کرنے کیلئے انھیں بچوں کو دہشت گرد کا لیبل لگا کہ چسکے بھی لیتے ہیں اور مداوا بھی نہیں کرتے۔۔۔خدارا یہ قوم کے بچے ہیں انھیں آج بھی وہی اوقات دے دی جاۓ جو ایچی سن اور GC کے فارغ التحصیل طلبا کی ہے تو یہ قوم دہشتی گردی سے بچ جاۓ گی۔۔۔عمران خان مدارس کو سنبھالنے اور انکے بچوں کو ملک و قوم کے فرزندان سمجھنے پہ آپکو تہه دل سے سلام پیش کرتا ہوں۔۔تمام مکاتب فکر کے مدارس اور انکے بچوں کو وہی حق حاصل ہے جو اس ملک کے نام نہاد ارسطووں اور افلاطونوں کو ہے۔۔۔

چاٹ کی اقسام

ایک دہی بھلے , چھولے چاٹ کی دکان پر چاٹ کی اقسام بمعہ قیمت , فہرست آویزاں تھی جس پر لکھا تھا .

1. سادہ چاٹ .... 20 روپے
2. اسپیشل چاٹ ... 22 روپے 
3. ایکسٹرا اسپیشل چاٹ ... 24 روپے 
4. ڈبل ایکسٹرا اسپیشل چاٹ ... 25 روپے
5. سنڈے اسپیشل چاٹ ... 30 روپے 

میں نے سوچا روز آنہ یہ مختلف قسم کی چاٹ کا زائقہ چکھنا چاہیۓ .

تین , چار دن میں احساس ہوا کہ زائقہ تو ایک ہی ہے کوئ فرق نہیں ہے . 

دکاندار سے پوچھا کہ بھائ یہ کیا ماجرا ہے تو وہ بولا کہ 

سادہ چاٹ ایسے ہی پلیٹ میں دے دی جاتی ہے .
اسپیشل چاٹ ,, چمچہ دھو کے دی جاتی ہے .
ایکسٹرا اسپیشل چاٹ ,, چمچہ اور پلیٹ دھو کے دی جاتی ہے .
ڈبل ایکسٹرا اسپیشل چاٹ ,, ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ میں اپنے ہاتھ بھی دھو کے دیتا ہوں .

میں نے پوچھا بھائ یہ سنڈے اسپیشل چاٹ میں کیا ہوتا ہے تو وہ بولا سنڈے یعنی اتوار کو میں خود نہا کر آتا ہوں .

ایجوکیٹرز مطالبات

تمام ایجوکیٹرز کو تاریخ تقرری سے مستقل کی جاۓ اور خواتین اساتذہ کو فوری گرلز سکولوں میں اور مرد اساتذہ کو مردانہ سکولوں میں شفٹ کیا جاۓ پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن میاں چنوں خانیوال کا اجلاس ضلعی صدر چودھری نثار احمد کمبوہ ایڈوکیٹ کی زیر صدارت ہوا,اجلاس میں چیئرمین ضلع خانیوال سید اسرار حسین گردیزی, میڈیاسیکریٹری ضلع خانیوال راناظفر اقبال خان,ڈویژنل آرگنائزر و صدر کبیر والہ ہارون خاں پنیاں صاحب,چیئرمین میاں چنوں یاسرمحمود صاحب,نائب صدر پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن میاں چنوں چودھری ریاض احمد آرائیں,مہر خضر امین لک ایڈوکیٹ صدر مرکز میاں چنوں, چودھری اختر صابر کمبوہ میڈیا سیکریٹری میاں چنوں, نصراللہ طور ایڈیشنل میڈیا سیکریٹری,ملک غضنفر علی فنانس سیکریٹری میاں چنوں,شبیر حسین رضا,اویس مغل,محمد الیاس حیدر مغل,شکیل عروجی اور قیصر ندیم عظمت صدر پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن میاں چنوں و دیگر اساتذہ کرام نے شرکت کی.اجلاس میں درج ذیل فوری حل طلب مسائل زیر بحث آۓ . ضلع خانیوال میں نئی بھرتی سے پہلے 2002 تا حال بھرتیوں کے مطابق 50% محکمانہ پروموشن دینے کا مطالبہ کیا گیا . نئی بھرتی سے پہلے فی میل اساتذہ کو مردانہ سکولوں سے گرلز سکولوں اور مرد اساتذہ کو گرلز ضم کیۓ گۓ سکولوں سے مردانہ سکولوں میں شفٹ کرنے کا مطالبہ اور 2000 تا حال بھرتی ہونے والے اساتذہ کو تاریخ تقرری سے فوری مستقل کرنے ,آئندہ بھرتی مستقل بنیادوں پر کرنے اور ٹیچر سن کوٹہ رکھنے کا فیصلہ ہوا .ریٹائرمنٹ سے کم از کم چھ ماہ پہلے ریٹائرمنٹ کاعمل مکمل کرکے ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی گریجوایٹی و پینشن شروع کر نے کا مطالبہ کیا گیا اور دوران سروس موت کی صورت میں لواحقین کو فوری واجبات ادا کیۓ جائیں تا کہ . گروپ انشورنس کی مد میں جمع کی گئ رقم بیس یا پچیس سال کے بعد دینے کا مطالبہ کیا اور دیگر اساتذہ کے مسائل رخصت,بے جا چیکنگ,طلباء کا فیل پاس کا نظام بحال کرنے,طلباء کی تعداد کیمطابق اساتذہ کی تعداد پوری کرنے کا مطالبہ کیا

کرامات اور روحانیت سے متعلق سوالات و جوابات

وہابیوں کے سوالات کے منہ توڑ جوابات۔

1۔کسی ولی کے تھوکنے سے کھوہ میٹھا نہیں ہوتا


جواب۔
اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں شہد کی مکھی کو الہام کیا تین حکم کیئے

1۔پہاڑوں میں گھر بنا اور چھتوں میں 

2۔ہر قسم کے پھل میں سے کھا


3۔اور اپنے رب کی راہیں چل


شہد کی مکھی کو یہ تین حکم اللّٰہ تعالیٰ نے کیے اور اس نے پورے کیے تو اس کا زکر قرآن میں پوری سورت نحل اتار دی گئی پھر اس کا اجر شہد کی مکھی کو یہ ملتا ہے کہ جب وہ الٹی کرتی ہے تو اس کا شہد بنتا ہے جو لوگوں کے لیے شفا ہے یہ قرآن کا فرمان ہے


اب تین حکم شہد کی مکھی پہ اتریں وہ تین حکم پورے کرئے تو اس کی الٹی میں شفا ہے

اللّٰہ تعالیٰ کہ لاکھوں حکم بندے پہ اتریں وہ لاکھوں حکم پورے کریں پھر بابا فرید کنویں میں تھوک دیں کنواں میٹھا کیوں نہ ہو


2۔اعتراض۔
مردے نہیں سنتے 


حدیث پاک میں آتا ہے جب تم قبروں کو جاو تو اسلام کرو مُردے جواب دیتے ہیں وہ ہمارا سلام سنتے ہیں تو جواب دیتے ہیں اگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں سنتے تو پھر حدیث غلط ہوگی نعوذبااللّٰہ

وہ سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں یہ حدیث سے ثابت ہے
تو پھر ہم ان کا جواب نہیں سنتے کہنا تو یہ چاہیے کہ مُردے سنتے ہیں ہم نہیں سنتے اگر روحانیت باکمال ہو تو وہ ضرور سنتا ہے اصل فرق مادیت اور روحانیت کا ہے روحانیت کے ذریعے بزرگ سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں مادیت کے زریعے مادہ پرست لوگ دیکھتے ہیں سنتے ہیں جیسے فون کے زریعے ہزاروں میل دور شخص سن بھی سکتا ہے اور دیکھ بھی سکتا ہے لیکن وہ مادیت کا کمال ہے روحانیت کا نہیں 

روحانیت کا کمال یہ تھا کہ جب کوی چیز زریعہ نہیں تھی مثلاٙٙ اب نلکے موٹر ٹیول کے زریعے پانی نکالا جاتا ہے زمین سے یہ مادیت کا کمال ہے 

لیکن

جب ایڑیاں رگڑنے سے پانی نکلے یہ روحانیت کا کمال ہے جب لوگ قحط پڑھ جاتا تھا لوگ انبیاّء اکرام کے پاس آکر پانی مانگتے تھے 

ہمیشہ مادیت اور روحانیت کا فرق رکھے کہ مادہ پرست مادیت کے زریعے کمالات دکھاتا ہے اور روحانیت والا روحانیت سے کمال دکھاتا ہے 


اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو دماغ دیا ہے چاہے کافر ہے چاہے مسلم ان کو اختیار دیا کہ راستے دو ہیں ایک شیطان کا ایک رحمن کا اب کس کے پیچھے چلنا ہے یہ تجھ کو اختیار دیا ہے 

اس لیے حدیث پاک ہے دنیا کافر کے لیے جنت ہے مومن کے لیے قید خانہ 

جب دنیا کا سازوسامان دنیا کی ترقی دیکھ کر اگر روحانیت کو بھول گیا تو پھر اس کا راستہ شیطان والا ہو گیا اگر یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی اس جہان پہ توجہ نہ دے تو روحانیت پہ یقین رکھنے والا ہے بتاو کیا وجہ ہے جو چیز 1400 سال بعد وجود میں آتی ہے نبی پاک چودہ سو سال قبل اس حقیقت کو بیان کر دیں تو کیا وہ بنا نہیں سکتے تھے 


ہمیشہ اللّٰہ تعالیٰ مجاز سے حقیقت کی طرف لے کر جاتا ہے دنیا میں ہزاروں میل دور بیٹھ کر اگر آپ کسی کی آواز کسی کو دیکھ سکتے ہو تو یہ مادیت کا کمال ہے 
اگر غوث پاک ساری کائنات کو ہتھیلی پہ دیکھتے ہیں تو یہ روحانیت کا کمال ہے افسوس ہے کہ مجاز کو تسلیم کرنا اور حقیقت سے دور رہنا یہ اندھے ہیں بہرے ہیں گھونگے ہیں جن کو نظر ہی نہیں آتا مادیت اور روحانیت کا فرق مادہ پرست انسان مادیت سے محبت کرتا ہے اس لیے وہ اس کو دوسرا جہان اور روحانیت کے کمال نظر نہیں آتے اور جو روحانیت والا ہوتا ہے اس کے یہ جہان کے سازو سامان ترقی کچھ نظر نہیں آتا اس کے سامنے سونا اور مٹی برابر ہوتا ہے اس وجہ سے وہ خالق پہ ہی نظر رکھتا ہے یہی وجہ ہے حضرت خالد بن ولید بغیر ایٹم بمب کے ساری جنگیں فتح کرتے ہیں ایک ایک صحابی ہزاروں ہزاروں لشکر سے اکیلا لڑ جاتا تھا حضرت علیؓ میں جو طاقت تھی وہ روحانی تھی وہ کسی مادیت پہ اعتبار نہیں کرتے تھے اس وجہ سے وہ ہمیشہ کامیاب رہے ان کی روحانیت باکمال تھی


اللّٰہ تعالی شہید کو مردہ نہیں کہنے دیتا وہ اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں رزق لے رہے ہیں ۔القرآن۔
کیونکہ شہید اپنی جان قربان کرتا ہے دین پر 

لیکن اللّٰہ فرماتا ہے قیامت والے دن علماء حقانی علماء ربانی کے قلم کی سیاہی کے ساتھ شُھدا کا خون تولا جائے گا تو علماء کے قلم کی سیاہی بڑھ جائے گی
یعنی علماء کی فضیلت زیادہ ہوگی کیونکہ علماء نے جہاد اکبر کیا


بیشک سب سے بڑا جہاد جابر سلطان کو کلمہ حق کہنا ہے ۔الحدیث۔


افسوس ہے شہید کی فضیلت اور مقام کو ماننا اور علماء کی فضیلت اور مقام کو نہ ماننا کہنا چاہیے تھا کہ بیشک جیسے شھدا قبروں میں جی رہے ہیں رزق لے رہے ہیں اس طرح علماء حقانی علماء ربانی کا مقام اور فضیلت اور ان کا جہادِ اکبر کو مدِ نظر رکھ کہتا یہ بھی قبروں میں زندہ ہیں اور رزق لے رہے ہیں لیکن یہ کہنا کہ مردے سنتے نہیں سب بے خبر ہیں چاہے کوی کامل ہے سب برابر ہیں افسوس ہے اس جہان میں ہی سب برابر نہیں ہیں جیسے کوی کم سنتا ہے کوی زیادہ کوی مدھم سنتا ہے کوی بالکل ہی نہیں سنتا جیسے گھونگا اور کوی دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہے کوی دور سے دیکھ سکتا ہے کوی نزدیک سے دیکھنا اور سننا یہ اس مجازی جہان میں ایک جیسا نہیں تو حقیقت کے جہاں میں ایک جیسا کیسے ہو سکتا ہے شہید زندہ ہیں مردے جواب دیتے ہیں یہ ماننا لیکن جب انبیاء اکرام اور اولیاء اکرام علماء کی بات آئے تو وہ نہیں سنتے نعوذباللّٰہ یہ کیسی سمجھ اور عقل ہے


ہمیشہ مقام اور فضیلت اس جہان میں بھی اس کا ہے جو مالک کا پٹا گلے میں ڈالتا ہے فیکٹریوں کارخانوں میں اس کا مقام اور عزت ہوتی ہے جو مالک کی ہر بات مانتا ہو 


ہم نے دیکھا ہے ایک کتا صوفے پہ بیٹھ کر کھاتا ہے دودھ پیتا ہے اس کی دیکھ بھال بہت کی جاتی ہے یہ کیوں

دوسری طرف

ایک مرغی ہے جو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پہ سار دن منہ مارتی ہے اس کی اتنی دیکھ بھال کیوں نہیں 

کتا حرام ہو کر اتنی عزت پا رہا ہے اور مرغی حلال ہوکر اتنی زلیل ہو رہی ہے آخر وجہ کیا ہے 
بزرگ فرماتے ہیں


یہ اس وجہ ہے کہ کتے نے مالک کا پٹا گلے میں ڈالا ہے اور مرغی پٹے سے خالی ہے اس وجہ سے وہ حرام اتنی عزت پا رہے ہیں اور یہ حلال اتنی زلیل ہے

تو یہ سمجھو کہ جس نے شریعت کا پٹا گلے میں ڈال لیا وہ عزت و مقام فضیلت والا ہے
دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی علماء اور اولیاء یہ شریعت کے پٹے کو گلے میں ڈالتے ہیں اس وجہ سے وہ فضیلت مقام میں ہم سے اونچے ہیں اور وہ کچھ جانتے ہیں جو میں اور آپ نہیں جانتے یہ کہنا بیوقوفی اور جہالت ہے کہ سب برابر ہیں ہر کوی برابر اس جہان میں نہیں ہوسکتا وہاں کیسے ہو سکتا جو حققیقی جہان ہے 

اس جہان میں جو گھونگا ہے وہ نہیں سنتا تو پھر زندہ اور مردہ کی بات کہاں گی گھونگا زندہ ہے لیکن سنتا نہیں لیکن یہی گھونگا اگر روحانیت میں باکمال قبروں میں جا کر وہ ہمارے اسلام کا جواب دے گا کیونکہ نبی پاک نے فرمایا مردے سنتے ہیں تو پھر وہی گھونگا شخص دنیا میں نہیں سنتا قبر میں جا کر سنتا ہے اور جواب دیتا ہے پھر زندہ مردہ کی بات کہاں گی ،


اللّٰہ پاک سب مسلمانوں کو ہدایت دے 

دعاگو۔دلشاد احمد چشتی

ملک شام کے حالات

👈 مُلکِ شام کے حالات
👈 امام مہدی كا ظہور 
اور 
👈نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم كی پیشن گوئیاں .!

اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا کہ :
" اُونٹوں اور بَکریوں کے چَروَاہے جو بَرہَنَہ بَدَن اور ننگے پاؤں ہونگے وه ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے اور فخر کریں گے ... "
(صحیح مسلم 8)

ریاض شہر میں عمارتوں کا یہ مقابلہ آج اپنے عُروج پر پہنچ گیا،
 دبئی میں ’’برج خلیفہ‘‘ کی عمارت دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بن گئی تو ساتھ ہی شہزاده ولید بن طلال نے جَدَّه میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے جو دھڑا دھڑ بنتی چلی جا رہی ہے، 
عرب کی عمارتیں سارے جہان سے اونچی ہو چکی ہیں ...!

عرض کرنے کا مقصد صرف یہ کہ
میرے پیارے رسول حضرت مُحمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے جو فرمایا وه پُورا ہو چکا ہے
اور پیشگوئی پُوری ہو کر اپنے نُکتۂ کمال کو پہنچ چکی ہے ...!

عرب کا سب سے زیاده تیل خریداری کرنے والے امریکہ نے صَدَّام کو ختم کر کے تیل کی دولت سے سَیراب مُلک عِرَاق کے کنوؤں پر قبضہ جما لیا ہے
اور لاکھوں بیرل مُفت وصول کر رہا ہے
تو پھر تیل کی گِرتی مانگ نے تیل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر پہنچا دیا
جس سے عرب ممالک کا سُنہرا دَور خاتمے کے قریب ہے ...!

■ سوال پیدا ہوتا ہے اس زوال کے بعد کیا ہے ...؟

اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور حدیث ہے کہ :
" قیامت سے پہلے سَرزَمینِ عرب دوباره سَرسَبز ہو جائیگی"
(صحیح مسلم)

سعودی عرب اور امارات میں بارشیں شروع ہو چکی ہیں،
مَکَّہ اور جَدَّه میں سَیلاب آ چکے ہیں۔ 

عرب سرزمین جسے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کو کام میں لا کر سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی ہے 
وه قدرتی موسم کی وجہ سے بھی سرسبز بننے جا رہی ہے۔
سعودی عرب گندم میں پہلے ہی خودکفیل ہو چکا ہے،
اب وہاں خشک پہاڑوں پر بارشوں کی وجہ سے سبزه اُگنا شروع ہو چکا ہے،
 پہاڑ سرسبز ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
بارشوں کی وجہ سے آخرکار حکومت کو ڈیم بنانا ہوں گے
جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی،
 ہریالی ہو گی،
 سبزه مزید ہو گا،
 فصلیں لہلہائیں گی،
 یُوں یہ پیشگوئی بھی اپنے تکمیلی مَرَاحِل سے گزرنے جا رہی ہے
 اور جو میرے حضور صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جا رہے ہیں ...!

اگر احادیث پر غور کریں تو مَشرقِ وُسطیٰ کے زوال کا آغاز مُلکِ شام سے شروع ہوا لیکن شاید عرب حُکمران یا تو یہود و نصاریٰ کی چال سمجھ نہ سکے
یا بے رخی اختیار کی لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو،
سرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم کی بتائی ہوئی علامات کو تو ظاہر ہونا ہی تھا
حدیث کے مطابق ...!

چُنانچہ
حدیث پاک میں ارشاد ہے 
ﺭﺳﻮﻝ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
" ﺟﺐ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ "
(ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ 2192: ﺑﺎﺏ ﻣﺎﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﺎﻡ، ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ)

میرے محترم و مکرم قارئین کرام یاد ﺭﮐﮭﯿﮟ ...! 
ﺍَﺣﺎﺩﯾﺚِ ﻣُﺒَﺎﺭﮐﮧ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﻭ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﺎ ﻣُﺴﺘﻘﺒﻞ ﻭَﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﮯ،
ﺍﮔﺮ مُلکِ شام ایسے ہی ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮتے رہا ﺗﻮ
ﭘُﻮﺭﯼ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ،
ویسے تو 90 فیصد برباد ہو چکا .........!

اب جبکہ پانچ سالہ خُونریزی میں 8 لاکھ بےگناه بَچّے، بُوڑھے، عَورتیں شہید اور لاتعداد دُوسرے مُلک کی سرحدوں پر زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں اور اتنے ہی تعداد میں زخمی یا معذور ہو چکے،
لہٰذا شام مُکمَّل تباہی کے بعد اب نزع کی حالت میں ہے ...!

اس حدیث کے حساب سے عرب ممالک کے سُنہرے دَور کے خاتمہ کی اہم وجہ مُلکِ شام کے مَوجُودَہ حالات ہيں،
گویا نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم کی ایک اور پیشگوئی کی عَلامَت ظاہر ہو رہی ہے یا ہوچکی ........!

یاد رکھیں ...! 
کہ مُلکِ شام کے مُتعلّق اِسرائیل، رُوس و امریکہ جو بھی جھوٹے بہانے بنائے،
لیکن ان سب کا اَصل ہَدَف جَزیرَة ُالعَرَب ہے
 کیونکہ
کُفَّار کا عقیدہ ہے کہ
 دَجَّال مَسِیحَا ہے
اس وجہ سے یہ لوگ دَجَّال کے اِنتظامات مُکمَّل کر رہے ہیں 
جس کے لیے عرب ممالک میں عَدمِ اِستحکام پیدا کرنا ہے
کیونکہ
مُلکِ شام پر یہود و نصاریٰ قبضہ کرنا چاہتے ہیں
 اور یہ ہو کر رہیگا 
حضرت مہدی عَلیهِ السَّلام کے ظہور سے قبل .....!

چُنانچہ کتابِ فِتَن میں ہے کہ :
" آخری زمانے میں جب مُسلمان ہر طرف سے مَغلوب ہوجائیں گے،
 مُسلسل جَنگیں ہوں گی،
 شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہو جائے گی،
عُلماء کرام سے سُنا ہےکہ
 سَعُودیہ، مِصر، ترکی بهى باقى نہ رہیگا
ہر جگہ کُفَّار کے مظالم بڑھ جائیں گے،
اُمَّت آپسی خَانہ جَنگی کا شِکار رہےگی.
عرب (خلیجی ممالک سعودی عرب وغیره) میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہےگی،
 خَیبَر/ الخبر (سعودی عرب کا چھوٹا شہر مَدینةُ المُنَوَّره سے 170 ک م كے فاصلے پر ہے) کے قریب تک یہود و نصاریٰ پہنچ جائیں گے، 
اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مَدِینة ُالمُنَوَّرَه پہنچ جائیں گے، 
اس وقت حضرت امام مہدی عَليهِ السَّلام مدینہ منوره میں ہوں گے "

دُوسری طرف دریائے طبریہ بھی تیزی سے خُشک ہو رہا ہے جو کہ مہدی عَلیہِ السَّلام کے ظہور سے قبل خُشک ہوگا ...!

اسلئے جب مَشرقِ وُسطیٰ کے حالات کو خُصُوصاً مُسَلمانوں اور ساری دُنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دُنیا ہولناکیوں کی جانب بڑھ رہی ہے،
 فرانس میں حَملوں کے بعد فرانس اور پوپ بھی عالمی جنگ کی بات کر چکے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے كه
 اس عالمی جنگ کا مرکز کون سا خطہ ہو گا ...؟ 
وَاضِح نظر آ رہا ہے، مَشرقِ وُسطیٰ ہی مُتَوَقّع ہے ....!

یہاں بھی ہند و پاک کی رَنجِشیں اور کشمکش کے بڑھتے حالات سے بھی لگتا ہے کہ
غَزوه ہند کی طرف رُخ کر رہے ہیں 
کیونکہ حضرت ابو ہریره رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنه سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللّٰه
 صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا :
" میری قوم کا ایک لشکر وَقتِ آخِر کے نزدیک ہند پر چَڑھائی کرے گا
اور اللّٰه اس لشکر کو فتح نصیب کرے گا،
یہاں تک کہ وه ہند کے حُکمرانوں کو بیڑیوں میں جَکڑ کر لائیں گے۔
اللّٰه اس لشکر کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔
پھر وه لشکر وَاپس رُخ کرے گا
اور شام میں موجود عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کے ساتھ جا کر مِل جائے گا "

حضرت ابوہریره رَضِىَ اللّٰه تعالىٰ عَنه نے فرمایا :
" اگر میں اُس وقت تک زندہ رہا تو میں اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اُس لشکر کا حِصَّہ بَنُوں گا،
 اور پھر جب اللّٰه ہمیں فتح نصیب کرے گا تو میں ابوہریره (جہنم کی آگ سے) آزاد کہلاؤں گا۔ پھر جب میں شام پہنچوں گا
تو عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کو تلاش کر کے انہیں بتاؤں گا کہ
 میں مُحَمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم كا ساتھی رہا ہوں "

رسول پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے تَبَسُّم فرمایا اور کہا : 
"بہت مشکل،
بہت مشکل"
(کتاب الفتن۔ صفحہ ۴۰۹)

(واللہ تعالٰی اعلم)

آنے والے اَدوَار بڑے پُرفِتن نظر آتے ہیں اور اس کے مُتعلّق بھی سَرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا تھا کہ میری اُمَّت پر ایک دَور ایسے آئیگا
جس میں فِتنے ایسے تیزی سے آئیں گے 
جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں،
 لہٰذا اپنی نَسلوں کی ابھی سے تربیت اور ایمان کی فِکر فرمایئے،
موبائل كے بےجا استعمال سے،
 دیر رات تک جاگنے، فیشن اور یہودی انداز اپنانے سے،
نمازوں کو تَرک کرنے سے روكئے ... 
ورنہ آزمائش کا مقابلہ دُشوار ہو گا .....!

دوستوں چلتے، چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے
 اگر کوئی ایسی نایاب ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگے، 
تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے،
یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا
لیکن
ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کرده تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....!   
جزاک اللہ خیرا کثیرا ...
✴✳*⃣🔵🔴